تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 409 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 409

تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 401 حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد ایدہ اللہ کے سفر ہند و عرب " رہو۔میں کسی کا خوشامدی نہیں مجھے کسی کے سلام کی بھی ضرورت نہیں اور نہ تمہاری نذیر اور پرورش کا محتاج ہوں۔اور خدا کی پناہ چاہتا ہوں کہ ایسا د ہم بھی میرے دل میں گذر۔۔۔۔۔۔۔۔جو سنتا ہے وہ سن لے اور خوب سن لے اور جو نہیں سنتا اس کو سننے والے پہنچا دیں کہ یہ اعتراض کرنا کہ خلافت حقدار کو نہیں پہنچی رافضیوں کا عقیدہ ہے اس سے تو بہ کر لو۔اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے جس کو حقدار سمجھا خلیفہ بنا دیا۔جو اس کی مخالفت کرتا ہے وہ جھوٹا اور فاسق ہے فرشتے بن کر اطاعت و فرمانبرداری اختیار کرد - ابلیس نہ بنوا " جیسا میں نے ابھی کہا ہے یہ رفض کا شبہ ہے جو خلافت کی بحث تم چھیڑتے ہو یہ تو خدا سے شکوہ کرنا چاہئے کہ بھیرہ کا رہنے والا خلیفہ ہو گیا۔کوئی کہتا ہے کہ خلیفہ کرتا ہی کیا ہے ؟ لڑکوں کو پڑھاتا ہے کوئی کہتا ہے کہ کتابوں کا عشق ہے اس میں مبتلا رہتا ہے۔ہزار نالائقیاں مجھ پر تھو پو مجھ پر نہیں یہ خدا پر لگیں گی۔جس نے مجھے خلیفہ بنایا۔یہ لوگ ایسے ہی ہیں جیسے رافضی ہیں جو ابو بکرہ عمر رضی اللہ عنہما پر اعتراض کرتے ہیں۔میں باوجود اس بیماری کے جو مجھے کھڑا ہونا تکلیف دیتا ہے اس رقعہ کو ، ہم کر سمجھاتا ہوں کہ خلافت کیسری کی دکان کا سوڈا واٹر نہیں تم اس بکھیڑے سے کچھ فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔نہ تم کو کسی نے خلیفہ بنانا ہے اور نہ میری زندگی میں کوئی اور بن سکتا ہے میں جب مرجاؤں گا تو پھر وہی کھڑا ہو گا جس کو خدا چاہے گا اور خدا اس کو آپ کھڑا کر دے گا۔تم نے میرے ہاتھوں پر اقرار کئے ہیں۔تم خلافت کا نام نہ لو۔مجھے خدا نے خلیفہ بنا دیا ہے اور نہ اب تمہارے کہنے سے معزول ہو سکتا ہوں اور نہ کسی میں طاقت ہے کہ وہ معزول کرے اگر تم زیادہ زوردو گے۔تو یاد رکھو کہ میرے پاس ایسے خالد بن ولید ہیں جو تمہیں مرتدوں کی طرح سزا دیں گے۔دیکھو میری دعا ئیں عرش پر بھی سنی جاتی ہیں۔میرا موٹی میرے کام میری دعا سے بھی پہلے کر دیتا ہے میرے ساتھ لڑائی کرنا خدا سے لڑائی کرنا ہے۔تم ایسی باتوں کو چھوڑ دو تو بہ کرلو۔۔۔۔۔تھوڑے دن صبر کرو پھر جو پیچھے آئے گا۔اللہ تعالیٰ جیسا چاہے گا وہ تم سے معاملہ کرے گا"۔مسئلہ خلافت کے علاوہ آپ نے دوسرے نزاعی مسائل (مسئلہ نبوت و کفر و اسلام) کے بارے میں بھی واضح لفظوں میں تصریحات فرما ئیں چنانچہ آپ نے فرمایا : سنو تمہاری نزاعیں تین قسم کی ہیں۔اول ان امور اور مسائل کے متعلق ہیں جن کا فیصلہ حضرت صاحب نے کر دیا ہے۔جو حضرت صاحب کے فیصلہ کے خلاف کرتا ہے وہ احمدی نہیں۔جن پر حضرت صاحب نے گفتگو نہیں کی ان پر بولنے کا تمہیں خود کوئی حق نہیں جب تک ہمارے دربار سے تم کو اجازت نہ ملے ہیں، جب تک خلیفہ نہیں بولتا یا خلیفہ کا خلیفہ دنیا میں نہیں بولتا۔یا خلیفہ کا خلیفہ دنیا میں