تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 403 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 403

تاریخ احمدیت جلد ۳ 395 حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد اید واللہ کے سفر ہند و عرب خادم ہے اور نہایت مقرب خادم ہے اس لئے اس کو اس جنت میں جگہ ملے گی جس میں رسول اللہ ہیں چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے القبر روضة من رياض الجنة۔10- حافظ محمد یوسف صاحب: یہ حدیث بالکل غلط ہے اصل حدیث ہے ما بین قبری و منبری روضة من رياض الجنه۔یہ کہہ کر بہت شور مچایا کہ یہ رسول اللہ پر افترا ہے ایسی کوئی حدیث موجود نہیں۔حضرت حافظ صاحب نے فرمایا کہ یہ حدیث یقیناً موجود ہے اور ہم مسافر ہیں اور ہمارے پاس گو کتابیں نہیں مگر ہم آپ کو اس کا پورا پورا حوالہ لکھ کر دیں گے۔کانپور میں حضرت صاحبزادہ صاحب کا ایک پبلک لیکچر ۱۸ / اپریل کی شام کو طلاق محل کے میدان میں ہوا۔جو آپ کی قیام گاہ کے نزدیک تھا۔لیکچر کے وقت لوگوں کا ایک ہجوم امڈ آیا اور لیکچر گاہ بالکل بھر گئی اور بہت سے لوگوں کو کھڑا ہونا پڑا۔کوئی اڑھائی ہزار کے قریب مجمع ہو گا۔سب سے پہلے مولوی عبد الحی صاحب عرب نے تلاوت کی پھر حضرت حافظ روشن علی صاحب کی مختصری تقریر کے بعد آپ کھڑے ہوئے۔اور گو بنارس میں کثرت سے بولنے کی وجہ سے طبیعت علیل تھی مگر اللہ تعالی نے آپ کی ایسی غیر معمولی تائید و نصرت فرمائی کہ آپ نے ایک جدید اور اچھوتے رنگ میں احمدیت کی تبلیغ کی جسے سن کر سب مسحور ہو گئے اور باوجودیکہ خواجہ کمال الدین صاحب کی روش کے خلاف آپ نے کھول کھول کر سلسلہ احمدیہ کے عقائد بیان فرمائے مگر سامعین نے اسے نہایت درجہ دلچسپی سے سنا۔دو اڑھائی گھنٹہ تک آپ کی تقریر ہوئی۔اور تقریر کے بعد جو نہی آپ بیٹھے تو لوگ اپنی جگہ پر یہ سمجھ کر جمے رہے کہ شاید سانس لینے کے لئے بیٹھے ہیں۔آخر اعلان کیا گیا کہ لیکچر ختم ہو چکا ہے۔اس پر سامعین نے باد از بلند کہا کہ بہت سے لوگ مصافحہ کرنا چاہتے ہیں چنانچہ وہ لوگ جو دن کے وقت آپ کے منہ پر کافر کہہ کے گئے تھے۔بڑھ بڑھ کر مصافحہ کرنے کے علاوہ آپ کے ہاتھ بھی چومنے لگے۔کانپور کے شرفاء نے مزید قیام اور لیکچر کی درخواست کی۔مگر آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں یہی ڈالا ہے کہ اب میں یہاں سے روانہ ہو جاؤں۔دوسرے دن آپ شاہجہانپور پہنچے اور حضرت حافظ سید مختار احمد صاحب کے مکان پر قیام فرمایا انسی کی تحریک پر آپ نے صبح کے وقت ایک دل ہلا دینے والی تقریر فرمائی جس سے مولوی سراج دین صاحب خانپوری اس درجہ متاثر ہوئے کہ انہوں نے اس کی اشاعت کے لئے کچھ رقم بھی پیش کر دی۔۲۰ اپریل کو یہ وفد رام پور پہنچا جہاں خان صاحب ذو الفقار علی خان صاحب اور مولوی عبید اللہ صاحب بہل آپ کی مہمانی کے لئے موجود تھے۔رامپور میں آپ نے مدرسہ عالیہ دیکھا ۲۲ / اپریل ۱۹۱۲ء کو آپ وفد سمیت امروہہ پہنچے۔اسٹیشن پر حضرت مولوی سید محمد احسن صاحب امرد ہوی اور