تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 401 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 401

تاریخ احمدیت جلد ۳ 393 حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد ایدہ اللہ کے سفر ہند و عرب فراغت کے بعد آپ مولانا شیلی کے قائم کردہ دار العلوم ندوہ کی طرف تشریف لے گئے مولانا شیلی کو پتہ چلا تو انہوں نے اصرار کیا کہ ندوہ کے جلسہ میں (جو ۶-۸۰۷ / اپریل ۱۹۱۲ء کو منعقد ہو رہا تھا اور جس میں شمولیت کے لئے سید رضا بھی مصر سے آچکے تھے ضرور تشریف لائیں اور ہمارے ہاں ہی قیام فرما ئیں آپ کی دعوت پر جلسہ میں چلے تو گئے اور اس میں ان کے تعطیل جمعہ سے متعلق ریزولیوشن کی تائید بھی کی اور وہ پاس بھی ہو گیا۔مگر مصلحت ان کے ہاں نہیں ٹھہرے اس خیال سے کہ دوسرے علماء چڑ نہ جائیں اور کوئی بد مزگی بھی پیدا نہ ہو۔لیکن مولانا شیلی مرنجان مرنج طبیعت رکھتے تھے ان کو معلوم ہوا کہ آپ کا قیام کسی اور جگہ ہے تو وہ اصرار کر کے آپ کو اپنے یہاں لے گئے۔وہاں جاکر جیسا کہ خیال تھا کچھ بد مزگی بھی پیدا ہوئی۔اور غیر احمدی حضرات نے گالیاں بھی دیں مگر وہ بہت ہمت والے آدمی تھے انہوں نے بالکل پروانہ کی- دار العلوم ندوہ کے بعد آپ لکھنؤ کے مدرسہ فرنگی محل میں تشریف لے گئے جسے دیکھ کر آپ از حد متاثر ہوئے۔چنانچہ خود ہی فرماتے ہیں۔” جس وقت ہمارا وفد وہاں پہنچا تو مولوی عبد الباری صاحب نہایت تپاک سے ہمیں ملے اور اپنی کلاس کا معائنہ کرایا اور پھر مولوی صبغتہ اللہ صاحب کو ہمارے ساتھ کیا کہ باقی سکول دکھا دیں۔ہم نے دیکھا کہ ہر طالب علم نہایت ادب اور متانت سے بات کرتا تھا۔مولوی عبدالحی صاحب کے نواسے کو بھی انہوں نے پیش کیا کہ اس سے سوال کریں اس وقت اس کی عمر کوئی ۱۳ سال کے قریب تھی اس سے ہم نے جتنے سوال کئے اس نے نہایت سنجیدگی اور متانت سے اس کے جواب دیئے یوں معلوم ہو تا تھا کہ ہم کسی طالب علم سے سوال نہیں پوچھ رہے بلکہ کسی مفتی سے فتوی دریافت کر رہے ہیں۔انہوں نے بتایا اس کو تین چار ہزار عربی شعر یاد ہیں غرض وہ لڑکا بڑا ہی ذہین تھا۔میں نے اندازہ لگایا تھا کہ احمدیت چاہے اس کو ملے یا نہ ملے لیکن بڑا ہو کر اپنے نانا کے طریق پر چلے گا۔مگر افسوس تھوڑا عرصہ بعد ہی وہ فوت ہو گیا۔اس موقعہ پر جہاں آپ اچھے لائق اور عالم اساتذہ اور ذہین اور ہوشیار طلبہ کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے وہاں یہ تکلیف دہ نظارہ بھی آپ نے دیکھا که فرنگی محل کا ایک استاد ایک قبر کے سامنے سجدہ میں پڑا تھا۔۹/ اپریل ۱۹۱۲ء کو قیصر باغ کی بارہ دری واجد علی شاہ میں آپ کا خصوصیات سلسلہ پر ایک لیکچر بھی ہوا۔لکھنو کے اسلامی مدارس دیکھ کر آپ حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب اور سید عبدائی صاحب عرب کو لے کر بنارس تشریف لے گئے۔اور وہاں آپ نے چار لیکچر دئیے۔رند کے باقی ارکان نے لکھنو میں سید رشید رضا اور دوسرے علماء سے ملاقاتیں کیں۔اور حقیقتہ الوحی کا ضمیمہ استفتاء وغیرہ تقسیم کئے۔۱۷ / اپریل کو حضرت صاحبزادہ صاحب بنارس سے کانپور پہنچے۔جہاں وفد کے 2-