تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 21
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 17 خلیفہ المسیح الادل" کے حالات زندگی ( قبل از خلافت) ۱۵ اعوان قوم سے تھیں۔جس کا مورث اعلیٰ مورخین نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو قرار دیا ہے۔اس اعتبار سے آپ فاروقی بھی ہیں اور علوی بھی۔حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفتہ المسیح اول کے آباء و اجداد مدینہ سے نکل کر بلخ میں آباد ہوئے پھر کابل و غزنی کے حکمران بنے اور بالاخر چنگیزی حملہ کے دوران میں کابل سے ہجرت کر کے پہلے ملتان کے نواح میں بعد ازاں بھیرہ میں آبسے۔آپ کے خاندان میں بہت سے اولیاء و مشائخ طریقت گذرے ہیں اور حفاظ کا سلسلہ تو اس خاندان میں برابر گیارہ پشت سے چلا آتا ہے۔جو اس مقدس خاندان کے ابتداء ہی سے قرآن مجید سے والہانہ شغف اور غیر معمولی لگاؤ کا پتہ دیتا ہے جو شاید آپ کے مورث اعلیٰ حضرت عمر فاروق اللہ کے کلمہ حسبنا کتاب الله " فرمانے کا روحانی اثر و جذب تھا جو آنحضرت ﷺ کی زندگی کی آخری گھڑی میں آپ کی زبان مبارک سے نکلا تھا۔آپ کے خاندان میں جو اہل اللہ گذرے ہیں ان میں سے بعض مشہور بزرگوں کا ذکر ذیل میں کیا جاتا ہے۔حضرت عبد اللہ بن عمرؓ : سید نا حضرت عمر فاروق کے فرزند اور حضرت حفصہ زوجہ رسول کے سگے بھائی اپنے زمانہ کے مشہور محدث اور بلند پایہ علماء میں سے تھے۔عہد صدیقی میں شامیوں سے جو زبر دست مقابلہ ہوا۔اس میں اسلامی فوج کے کمانڈر آپ ہی تھے۔شامیوں کا جرنیل آپ ہی کے ہاتھوں تہ تیغ ہوا۔آپ کی وفات ۶۹۲ ء میں ہوئی۔2) حضرت عبید اللہ ناصر : بنی امیہ کے ظلم سے تنگ آکر مدینہ سے ترکستان ہجرت کر آئے۔اور بلخ میں سکونت پذیر ہوئے۔حضرت خواجہ اوھم : ایک جوان صالح جن کو حاکم بلغ نے نیکی اور پارسائی کی وجہ سے اپنی لڑکی دی اور خانہ داماد بنایا۔کیونکہ حاکم کی نرینہ اولاد نہ تھی اس طرح حاکم بلخ ہو گئے۔حضرت سلطان ابراہیم ادھم : اولیائے کبار ہ صوفیائے عظام میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ابتداء میں بلخ کے بادشاہ تھے مگر ایک عبرتناک خواب دیکھ کر عین عنفوان شباب میں تاج و تخت ٹھکرا دیئے۔اور فقیرانہ لباس بدل کر شہر سے نکل گئے اپنے گناہوں پر روتے جاتے تھے اور جنگلوں اور وادیوں میں سے پا پیادہ گذرتے جاتے تھے اسی حالت میں آپ نواح نیشا پور میں پہنچ گئے وہاں ایک غار نظر آیا جو نہایت تاریک اور بھیانک تھا۔یہاں تقریباً نو سال تک ریاضت کرتے رہے پھر مکہ شریف پہنچے اور حضرت امام اعظم ، سفیان ثوری اور ابو یوسف غولی کی محبت میں رہنے لگے۔حضرت جنید قدس سرہ