تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 391
تاریخ احمدیت جلد ۳ 383 انجمن انصار اللہ کا قیام اکتوبر 1911ء کو حضرت خلیفتہ المسیح اول نے ایک ضروری اعلان لکھا ایک ضروری اعلان جس کا ملخص یہ تھا کہ نکمی بحثوں اور لغو جھگڑوں سے اجتناب کرو اور اپنے ایمان کا دعوی سچا ثابت کرنے کے لئے اعمال صالحہ بھی بجالاؤ اور سلسلہ کی مالی ضروریات میں قربانی دکھاؤ دنیا کی حرص کو کم کرو اور روپیہ کے ہر ایک قسم کے ناجائز طریق حصول کو سخت آگ سمجھ مولوی عبدالحق حضرت خلیفہ اول کا خط مولوی عبد الحق صاحب حقانی کے نام صاحب نے حضرت خلیفہ اول کی خدمت میں یہ درخواست بھیجی کہ علمائے ہند کا ایک وفد شہنشاہ جارج پنجم کو مبارک باد دینے کے لئے جانے والا ہے اور مقامی حکام نے اسے پسند کیا ہے اس غرض کے لئے مجھے انتخاب کیا گیا ہے اور میں آپ کو منتخب کرتا ہوں۔علماء کے گروہ پر احسان ہو گا اگر اسے منظور فرمالیں گے۔حضرت خلیفہ اول نے اس کے جواب میں لکھا۔مکرم معظم مولانا! السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ۔خاکسار ایک ضعیف ضعیف العمر اس پر علیل ہے۔گھوڑے سے گرا تھا اب تک زخم باقی ہے پھر مولانا ہم لوگ نہ علماء ہیں نہ حکماء نہ اطباء ہیں پھر بادشاہوں کے حضور جانا روئے باید - بہر حال جناب خود ہر طرح منتخب اور ایسے امور کے لائق ہیں۔دعا کو لوگ کچھ سمجھیں میں اس کا قائل ہوں دعا کروں گا۔مولانا آپ بحمد للہ عالم ہیں۔علماء اگر اپنی اصلاح فرما ئیں تو کون سی عزت ان کو حاصل نہیں اور ان کو مل نہیں سکتی مگر موجودہ حالت میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ سب ما أصابكم من مصيبة فبما كسبت اید یکم کی تصدیق ہے بادشاہ کیا کر سکے گا۔یہ علماء حاصل شدہ عزت سے متمتع نہیں ہوتے۔کیوں؟ اس میں کس کا قصور ہے ؟ خاکسار ۱۸/ نومبر ۱۹۱۰ ء سے علیل ہے اس لئے سفر کے قابل نہیں۔والسلام نور الدین ۱۱/ نومبر ۱۹۱۱ء "۔تقسیم بنگال کی تفسیخ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بالکل مخالف حالات میں یہ خبرمی تھی کہ LA پہلے بنگالہ کی نسبت جو کچھ حکم جاری کیا گیا تھا اب اس کی دلجوئی ہو گی"۔یہ آسمانی خبر ۱۲ / د سمبر 191 ء کو پوری ہو گئی۔جبکہ جارج پنجم نے خود اپنی زبان سے دہلی کے دربار عام میں تقسیم بنگال کی منسوخی کا اعلان کیا۔یہ اعلان خالصتہ خدائی تصرف کا نتیجہ تھا کیونکہ دربار میں ایک مستقل اعلان شاہی ملک معظم کی طرف سے پہلے ہی پڑھ کر سنایا جا چکا تھا۔چنانچہ منشی دین محمد ایڈیٹر میونسپل گزٹ " لاہور اپنی کتاب "یادگار دربار تاجپوشی ہندوستان"