تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 386 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 386

تاریخ احمدیت۔جلد ۳ اپنے وطن میں پہنچے۔378 الجمن انصار اللہ کا قیام مباحثہ مانگٹ اونچے " ( ضلع گوجرانوالہ) مئی 1911ء میں مولوی غلام رسول صاحب را جیکی نے مانگٹ اونچے میں مولوی میر ابراہیم صاحب سیالکوٹی سے وفات مسیح" - "ختم نبوت " اور "صداقت مسیح موعود" کے موضوع پر کامیاب مناظرہ کیا۔مولوی ابراہیم صاحب سیالکوٹی کی شکست فاش کو دیکھ کر پچاس آدمی داخل احمدیت ہو گئے۔یہ مناظرہ ہزار ہا کے مجمع میں دو دن جاری رہا تھا۔حیات قدسی حصہ سوم (صفحہ ۸۶-۹۰) میں اس کی مفصل رو نداد طبع شدہ ہے۔مباحثه مونگیر انہی دنوں مونگھیر میں بھی مباحثہ ہوا۔مباحثہ میں مرکز کی طرف سے حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب حضرت حافظ روشن علی صاحب حضرت میر قاسم علی صاحب اور مولوی غلام رسول صاحب را جیکی تشریف لے گئے۔یہ بڑا مشہور مناظرہ تھا جس میں ہندوستان کے اطراف و جوانب سے تقریباً ڈیڑھ سو غیر احمدی علماء جمع ہوئے اور سامعین کی تعداد ۱۵ ہزار سے بھی متجاوز تھی۔مولوی ابراہیم صاحب سیالکوئی پہلے سے یہ پراپیگنڈا کر رہے تھے کہ احمدی مناظر عربی سے نابلد ہیں اور وہ عربی میں مناظرہ کرنے کے لئے تیار نہ ہوں گے۔ہماری فتح و کامیابی کا ڈنکا بجے گا۔لیکن جب مولوی غلام رسول صاحب را جیکی نے مولوی عبد الوہاب پروفیسر عربی کلکتہ کالج کے مقابل پہلا پرچہ فصیح و بلیغ عربی زبان میں پڑھنا شروع کیا تو علماء حیران و ششدر رہ گئے اور اپنی صریح ناکامی دیکھ کر شور مچانا شروع کر دیا اس فتنہ انگیزی کا نتیجہ یہ ہوا کہ دوران مباحثہ میں ہی آٹھ تعلیم یافتہ نوجوانوں نے احمد بیت قبول کرلی۔حضرت صاحبزادہ صاحب نے اس سال ڈلہوزی کا سفر اختیار فرمایا۔ڈلہوزی میں آپ کو ایک پادری سے گفتگو کرنے کا موقعہ ملا۔آپ نے تثلیث اور کفارہ پر بحث کرتے ہوئے اس سے پوچھا کہ بتاؤ اگر میز پر رکھی ہوئی پنسل کو فقط اٹھانے کے لئے کوئی شخص دو آدمیوں کو آواز دے تو آپ کیا سمجھیں گے کہنے لگا بیوقوف سمجھوں گا۔آپ نے فرمایا پھر خدا کے متعلق تمہارا کیا نظریہ ہے جس نے آپ کے عقیدہ کے مطابق کامل طور پر قادر مطلق ہوتے ہوئے بیٹے اور روح القدس کی ضرورت محسوس کی۔پادری بہت شرمندہ ہوا اور زچ ہو کر کہنے لگا کہ سوال تو ہر بیوقوف کر سکتا ہے۔مگر جواب دینے کے لئے عقلمند آدمی ہونا چاہئے۔آپ نے جواب دیا میں تو آپ کو عظمندہی سمجھ کر آیا تھا۔1 سفر ڈلہوزی مزور