تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 385
تاریخ احمدیت جلد ۳ 377 الجمن انصار اللہ کا قیام متعلق بعض باتیں بطور مثال پیش کر کے آپ نے تحریر کیا۔اگر یہ باتیں اسلام کے اصول کے خلاف ہیں تو کیا وجہ ہے کہ ہند کے مسلمان ان کو بدلوانے کی کوشش نہیں کرتے۔ہمیں کم از کم یہ تو ظاہر کر دیتا چاہئے کہ گورنمنٹ جو قانون چاہے عمل میں لائے مگر جس قانون کا نام شرع محمدی رکھا ہے وہ شرع محمد ی نہیں اور بہت سی باتیں ایسی ہیں جو اسلام کے خلاف ہیں۔مگر محمدی قانون کے طور پر رائج ہیں۔بہتر ہو اگر گورنمنٹ ہند کے شرع محمدی کی نظر ثانی کی جائے۔اور کم سے کم جماعت احمدیہ کی توجہ تو اس طرف دلائی جاوے تاکہ وہ اسلام پر عمل کر کے ان غلط اصولوں کے خلاف فیصلہ کرا دیں۔کیونکہ پنجاب میں اور اودھ میں یہ قانون ہے کہ مسلمانوں کے رواج کو شرع محمدی پر ترجیح دی جاوے اس لئے اگر کوئی بات سرکاری شروع محمد ی میں ایسی ہو جو اسلام کے اصولوں کے خلاف ہو۔اور جماعت احمد یہ تمام کی تمام اس بات کے خلاف اور اسلام کے مطابق عمل کرے۔تو یہ ان کا رواج ہو جائے گا اور کچھ سالوں کے عرصے میں عدالت اسے تسلیم کرلے گی۔امید ہے کہ حضور اس امر کی طرف کچھ توجہ مبذول فرمائیں گے"۔پھر لکھا: ایک اور اصول جو شرع محمدی میں دیا ہے وہ یہ ہے کہ اگر ایک مسلمان مرد یا عورت اسلام سے مرتد ہو جائے تو اس کا نکاح ٹوٹ جاتا ہے۔اس اصول سے پادری لوگ مسلمانوں کو تنگ کرتے ہیں مثلاً اگر ایک مسلمان عورت عیسائی ہو جائے۔تو اس کی طلاق ہو گی۔اب بے شک اسے کوئی نکال کرلے جائے خاوند کچھ نہیں کر سکتا حضور کی اس امر کی بابت کیا رائے ہے۔۔۔۔۔و السلام دعا گو و طالب دعا۔حضور کا غلام ظفر اللہ " - HD چوہدری صاحب کے بعد لندن میں پہلے خواجہ کمال الدین صاحب اور چوہدری فتح محمد صاحب سیال بھی تبلیغ اسلام کے لئے پہنچ گئے۔اور آپ کے ساتھ اعلائے کلمہ اسلام کے فریضہ میں خاص دلچسپی لیتے رہے۔خلافت ثانیہ کے قیام پر آپ نے اور چوہدری فتح محمد صاحب سیال نے تو بیعت کا خط لکھ دیا۔مگر خواجہ صاحب نے جو مجبور اخلیفہ اول کی دوبارہ بیعت کر چکے تھے آپ کی وفات کے بعد خلافت سے علی الاعلان منحرف ہو گئے۔کہتے ہیں حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی خدمت میں جب لندن سے چوہدری فتح محمد صاحب سیال اور چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کے بیعت نامے پہنچے تو آپ نے ایک مجلس میں فرمایا خدا کی قدرت فتح و ظفر خدا نے ہمیں عطا کر دیئے ہیں اور کمال (یعنی چالا کی غیر مبایعین کے حصہ میں آیا ہے۔چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب لندن میں تین سال قیام کے بعد شروع نومبر ۱۹۱۴ء میں واپس