تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 379 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 379

تاریخ احمدیت جلد ۳ 371 الجمن انصار اللہ کا قیام کے اثناء میں چھیڑ دیا۔جس پر خود انہیں اپنی پوزیشن غیر احمدیوں کے سامنے صاف کرنا پڑی - 21 خواجہ صاحب نے اپنے اس اشتہار میں لکھا تھا: میرے مرشد زادہ حضرت میرزا بشیر الدین محمود احمد نے اپنے رسالہ شعید الاذہان میں منکران جناب مسیح موعود کو کافر لکھا ہے۔سو جہاں تک میں نے اس رسالہ کو پڑھا ہے میرے نزدیک اس پر اس قدر شور کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔دراصل عربی زبان میں کفر کے معنے انکار کے ہیں۔اور کافر بمعنی منکر ہوتے ہیں۔کسی چیز کے مانے والے کو عربی زبان میں اس چیز کا مومن اور اس کے نہ ماننے والے کو اس چیز کا کافر کہا جاتا ہے ہم نے اگر مرزا صاحب کو مانا تو ہم ان کے مومن اور اگر ہم ان کو نہیں مانتے تو ہم کافر مرزا ہیں۔حضرت مرزا صاحب ہمارے نزدیک مامور من اللہ ہیں تو ان کے مصدق مومن بالمامور کہلائیں گے اور ان کے منکر کافر بالمامور - کیونکہ منکر مامور اور کا فرمامور دونوں ہم معنی جملے ہیں۔میرے نزدیک حضرت صاحبزادہ صاحب نے اپنی تحریر میں لفظ کا فر بمعنی منکر استعمال کیا ہے۔والا اگر کافر سے مراد خارج از اسلام لیا جائے جیسے ہندو یا عیسائی تو اس میں میری یا میاں صاحب کی رائے کیا جب خود حضرت اقدس مرحوم مغفو ر اپنے منکرین کو کافر یعنی خارج از اسلام نہیں کہتے تو ہم ان کے خلاف کیوں کہیں "۔اختبار الحکم نے اس مضمون پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ حضرت خلیفتہ المسیح کے ارشادات بالکل له۔صاف تھے خواجہ صاحب خواہ مخواہ سوال کو زیادہ پیچ دار اور حل طلب بناتے جا رہے ہیں۔پھر لکھا: بہر حال اس اشتہار میں اگر چہ صاف نہیں مگر خواجہ صاحب نے انت بیان کر دیا ہے کہ حضرت مرزا صاحب ہمارے نزدیک مامور من اللہ ہیں۔تو ان کے مصدق مومن بالمامور کہلائیں گے اور ان کے منکر کافر بالمامور - اب لغوی حیثیت سے دیکھے جانے کے قابل کوئی لفظ نہیں بلکہ اس کو ہم نے شرعی اصطلاح میں دیکھنا ہے۔کہ شریعت اس کے کیا معنی کرتی ہے۔اور خواجہ صاحب کا بھی دہی مفہوم ہونا چاہئے نہ کچھ اور۔کیونکہ حضرت خلیفتہ المسیح نے جو اس کی اشاعت کی اجازت دی ہے تو اسی حیثیت اور مفہوم کے لحاظ سے جو آپ کی مندرجہ بالا تقریروں اور حضرت کے ارشادات بھی درج کئے ہیں۔ناقل) میں درج ہے نہ کسی اور رنگ میں۔اب یہ مسئلہ بالکل صاف ہے اور مختصر الفاظ میں ہم اس کو یوں بیان کر سکتے ہیں کہ حضرت مرزا صاحب خدا تعالٰی کے مامور د مرسل ہیں اور ان پر ایمان لانا ایمان بالرسل میں داخل ہے جب تک کوئی شخص حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان نہیں لاتا اس وقت تک وہ اس ایمان کا مومن نہیں کہلا سکتا۔جو لا نفرق بين احد من رسلہ میں سکھایا گیا ہے۔۔۔ہم کو اخلاقی جرات سے کام لینا چاہیئے اور اپنے مذہب کو چھپانے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے۔مصلحت