تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 378
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 370 الجمن انصار اللہ کا قیام جب تک تمیز نہ ہو نہ امر بالمعروف ہی رہتا ہے نہ نہی عن المنکر۔خود نام رکھنا ہی ترقی کا موجب ہوتا ہے۔جب کوئی قوم ممتاز ہوتی ہے تو قوم اس کی مخالفت کرتی ہے پھر جوں جوں مخالفت ہوتی ہے اس ممتاز بننے والے کو سعی اور دعا کا موقعہ ملتا ہے۔آخر میں فرمایا " سعی کو شش جہاد دعا کے لئے ضرور ہیں صلح کل میں نہیں ہو سکتا"۔بهر حال حضرت خلیفہ اول کی واضح تصریحات اور حضرت صاحبزادہ صاحب کے مضمون نے احمدی و غیر احمدی سوال کے بارے میں قطعی فیصلہ کر دیا۔چنانچہ اخبار الحکم نے لکھا۔" میں نے لکھا تھا کہ حضرت صاجزادہ بشیر الدین محمود احمد صاحب ایدہ اللہ الا جن نے اس پر ایک مبسوط مضمون لکھا ہے خدا کا شکر ہے کہ وہ مضمون اب حضرت خلیفتہ الصحیح، ظلہ العالی کے ارشاد اور استصواب کے ماتحت پبلک ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔اس مضمون کے بعد انشاء اللہ اس بحث کا خاتمہ ہو جائے گا جبکہ ہم ایک نبی کے متبع ہیں۔تو کیا ضرورت ہے کہ خواہ مخواہ لوگوں کی عام ہمدردی یا تعریف کو حاصل کرنے کے لئے اپنے ممتاز عقائد کو صفائی سے بیان نہ کریں "۔خواجہ کمال الدین صاحب کا طرز عمل خواجہ کمال الدین صاحب جو آج تک اپنے زعم - میں ایک " صلح کل پالیسی اختیار کر کے ملک میں >> گھوم رہے تھے اور لیکچروں کے ذریعہ عوامی شہرت کے خوگر اور دلدادہ ہو رہے تھے حضرت خلیفہ اول کی تصریحات اور حضرت صاحبزادہ صاحب کے تائیدی مضمون سے سخت جزبز ہوئے۔چنانچہ پیسہ اخبار " (لاہور) نے لکھا کہ "وہ (یعنی خواجہ صاحب - ناقل) رسالہ مشحمید الاذہان کے نوجوان اور نا تجربہ کار ایڈیٹر کے اس قول سے متفق نہیں کہ احمدی لوگ سب مسلمانوں کو کافر سمجھتے ہیں جو مرزا غلام احمد صاحب کی نبوت یا مجددیت کے قائل نہیں "۔نیز لکھا ”امید ہے کہ خواجہ صاحب نے انجمن احمدیہ کی اتفاق رائے سے اس امر کا اعلان کیا ہو گا "۔A اخبار الحکم نے حسن ظن سے کام لے کر لکھا کہ حضرت خلیفتہ المسیح جس کو اپنی علالت کے ایام میں اس کے تقویٰ و طہارت کو دیکھ کر امام مقرر فرما ئیں۔اگر اس پوزیشن کا انسان نا تجربہ کار کہلا سکتا ہے تو ایسے نا تجربہ کاروں پر ہمارا جان و مال نثار غرض ایک احمدی کبھی یقین نہیں کر سکتا کہ خواجہ صاحب اس قسم کے الفاظ بولیں۔یہ محض خواجہ صاحب پر افترا ہے۔اسی اثناء میں ایڈیٹر الحکم کی نظر سے خواجہ صاحب کا ایک اشتہار گذرا جو انہوں نے غیر احمدی مسلمانوں کے متعلق میرا نہ ہب" کے عنوان سے شائع کیا تھا۔دراصل خواجہ صاحب نے بلا ضرورت اس سوال کو لاہور کے اسلامیہ سکول میں کسی لیکچر