تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 377
تاریخ احمد بیت - جلد ۳ 369 الجمن انصار اللہ کا قیام نواب محسن الملک کی زندگی میں انگریزی حکومت کی بعض کڑی شرائط کے باعث یونیورسٹی کا معاملہ بھی برسوں تک کھٹائی میں پڑا رہا۔مگر آخر جنوری ۱۹۲۱ء میں یہ عظیم الشان یونیورسٹی جو ایشیائی مسلمانوں کی بہت بڑی یونیورسٹی تھی۔معرض وجود میں آگئی۔مسلمان وہی ہے جو سب ماموروں کو مانے حضرت خلیفہ اول کے اس اعلان پر کہ احمدی اور غیر احمدی اختلاف اصولی ہے۔فروعی نہیں ہے۔امرت سر کے اخبار وطن اور جھنگ کے اخبار المنیر " نے آپ پر اعتراض کیا کہ آپ نے ایک ذرا سے فرق پر مسلمانوں میں پھوٹ ڈال دی ہے۔اسی طرح پیسہ اخبار میں کسی شوخ مزاج نے ایک مضمون لکھا کہ حضرت خلیفتہ المسیح اس فیصلہ کو واپس لے کر حضرت مرزا صاحب کے الہامات کو باطل کر دیں گے۔اور ان پر سے کفر کا فتویٰ واپس لے لیں گے۔خواجہ کمال الدین صاحب نے بھی ان ہر دو اخبارات میں ایک مضمون لکھا جس پر کفر و اسلام کے مسئلہ پر ایک عام بحث چھڑ گئی۔اس نازک مرحلہ پر جبکہ خلیفہ وقت کے مسلک کے خلاف چیلنج کیا گیا تھا۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے شعید الاذہان (اپریل 1911ء میں ایک مفصل مضمون لکھا جس میں آپ نے جماعت کے سامنے حضرت خلیفہ اول کے مسلک کی تائید میں خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات پیش کیں اور اس موضوع پر ایک فیصلہ کن بحث کر کے ثابت کیا کہ "مسلمان رہی ہے جو سب ماموروں کو مانے اور یہی عنوان اس مضمون کا رکھا۔حضرت خلیفتہ المسیح نے یہ مضمون سننے پر تحریر فرمایا کہ " مجھے اس مضمون سے مخالفت نہیں اور ہرگز مخالفت نہیں اور ارشاد فرمایا کہ اسے چھاپ دو۔سو آپ کی اجازت وہدایت سے یہ مضمون پہلے شہید الاذہان میں اور پھر اخبار الحکم میں شائع ہوا۔کسی شخص نے اسے الگ رسالہ کی شکل میں شائع کرنا چاہا تھا مگر چونکہ یہ مضمون خاص جماعت کے لئے تھا اور ایک رسالہ اور ایک اخبار میں شائع ہو کر اس کی جماعت میں کافی اشاعت ہو چکی تھی اس لئے حضرت خلیفہ اول نے اس کی اجازت نہ دی۔انہی دنوں سید محمد حسین شاہ صاحب جنہوں نے فروعی اختلاف کی بابت سوال کیا تھا دوبارہ قادیان آئے تو حضرت خلیفہ اول نے مسلم یونیورسٹی کی اعانت کے سلسلہ میں فرمایا کہ اس بارے میں اشتراک کا تو ہم نے فیصلہ کیا ہے لیکن امتیاز قائم رکھنا ضروری ہے۔جس کے پانچ وجوہ آپ نے بیان فرمائے۔امتیاز نہ رہے تو قوم گھل مل کر تباہ ہو جاتی ہے۔جب ہمارے مامور من اللہ کو یہ لوگ جھوٹا سمجھتے ہیں تو ہماری غیرت کس طرح برداشت کر سکتی ہے کہ ان کو اپنا امام صلوۃ بنالیں۔