تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 376
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 368 الجمن انصار اللہ کا قیام میں تو تفرقہ ہوتا ہے۔رہی یہ بات کہ آنحضرت ﷺ کو قرآن مجید میں خاتم النبین فرمایا۔ہم اس پر ایمان لاتے ہیں اور ہمارا یہ مذہب ہے کہ اگر کوئی شخص آنحضرت ﷺ کو خاتم النبین یقین نہ کرے۔تو بالاتفاق کافر ہے۔یہ جدا امر ہے کہ ہم اس کے کیا معنے کرتے ہیں اور ہمارے مخالف کیا۔اس خاتم النبین کی بحث کو لا نفرق بین احد من رسلہ سے کوئی تعلق نہیں وہ ایک الگ امر ہے۔اس لئے میں تو اپنے اور غیر احمدیوں کے درمیان اصولی فرق سمجھتا ہوں"۔اسی طرح فرمایا : لا الله الا اللہ مانے کے نیچے خدا کے سارے ماموروں کے مانے کا حکم آجاتا ہے اللہ کو مانے کا یہی مطلب ہے کہ اس کے سارے حکموں کو مانا جاوے گا۔اب سارے ماموروں کا ماننالا اله الا الله کے معنوں میں داخل ہے۔۔۔اور یہ جو کہتے ہیں کہ ہم " مرزا صاحب کو نیک مانتے ہیں لیکن وہ اپنے دعوئی میں جھوٹے تھے۔یہ لوگ بڑے جھوٹے ہیں۔خدا تعالٰی فرماتا ہے۔من اظلم ممن افترى علی الله الكذب ا و کذب بالحق لما جاءہ دنیا میں سب سے بڑھ کر ظالم دو ہی ہیں۔ایک جو اللہ پر انترا کرے۔دوم جو حق کی تکذیب کرے۔پس یہ کہنا کہ مرزا نیک ہے اور دعاوی میں جھوٹا گویا نور و ظلمت کو جمع کرتا ہے جو ناممکن ہے "۔سید محمود نے ۱۸۷۳ء میں ایک ایسی اسلامی مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے لئے چندہ یونیورسٹی کا تخیل پیش کیا جو کیمبرج اور آکسفورڈ کی طرح حکومت وقت کے اختیارات سے آزاد ہو اس کے بعد نواب محسن الملک مرحوم نے سرسید کی وفات کے بعد اس خیال کو آگے بڑھایا اور سرسید کی یاد گار ٹھہرا کر ایجوکیشنل کانفرنس کے مقصد میں اس کو داخل کر لیا۔II اور اس کی اعانت کے لئے ہندوستان بھر میں اسلامی اداروں، جماعتوں اور دوسرے مسلمان رؤسا اور عوام سے چندہ کی تحریکیں کی گئیں۔خود حضرت خلیفتہ المسیح نے اعلان فرمایا۔کہ " پیونکہ اس وقت ایک عام تحریک اسلامی یونیورسٹی کے ہندوستان میں قائم کرنے کے لئے ہو رہی ہے اور بعض احباب نے دریافت کیا ہے کہ اس چندہ میں ہمیں بھی شامل ہونا چاہئے یا نہیں اس لئے ان سب احباب کی اطلاع کے لئے جو اس سلسلہ میں شامل ہیں۔یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ اگر چہ ہمارے اپنے سلسلہ کی ضروریات بہت ہیں اور ہماری قوم پر بہت بوجھ چندوں کا ہے تاہم چونکہ یونیورسٹی کی تحریک ایک مفید اور نیک تحریک ہے اس لئے ہم یہ ضروری سمجھتے ہیں کہ ہمارے احباب بھی اس میں شامل ہوں اور قلمے ، قدمے سخنے در سے مدد دیں"۔اس اعلان کے ساتھ جماعت احمدیہ کی طرف سے ایک ہزار روپیہ کا عطیہ بھی بھجوایا۔