تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 372 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 372

تاریخ احمدیت جلد ۲ 364 المحمن انصار اللہ کا قیام صاحب ایدہ اللہ تعالی کو عالم رویاء میں دکھایا گیا کہ ایک بڑے محل کا ایک حصہ گرایا جا رہا ہے۔ساتھ ہی ایک میدان میں ہزاروں پتھمیرے بڑی تیزی سے اینٹیں ہاتھ رہے ہیں آپ نے پوچھا کہ یہ محل کیا ہے اور یہ کون لوگ ہیں تو آپ کو بتایا گیا کہ یہ محل جماعت احمد یہ ہے ہتھیرے فرشتے ہیں اور محل کا ایک حصہ اس لئے گرایا جا رہا ہے تا بعض پرانی اینٹیں خارج کر کے بعض کچی اینٹیں پکی کی جائیں اور نئی اینٹوں سے محل کی توسیع کی جائے۔نیز معلوم ہوا کہ جماعت کی ترقی کی فکر ہم کو بہت کم ہے اور فرشتے ہی اللہ تعالی سے اذن پا کر یہ کام کر رہے ہیں۔اس خواب کی بناء پر حضرت صاحبزادہ صاحب نے ایک انجمن بنانے کا فیصلہ کیا تاکہ اس کے ذریعہ احمدیوں کے دلوں میں ایمان کو پختہ کیا جائے۔اور فریضہ تبلیغ کو باحسن وجوہ ادا کیا جائے۔چنانچہ حضرت صاحبزادہ صاحب نے نہ صرف خود ہی استخارہ کیا بلکہ کئی اور بزرگوں سے استخارہ کروایا۔کئی ا دوستوں کو اس کی نسبت اللہ تعالٰی کی طرف سے بشارات ہو ئیں تب آپ نے حضرت خلیفتہ المسیح اول کی اجازت سے ایک انجمن انصار اللہ " کی بنیاد ڈالی اور اخبار بدر میں اس کا مفصل اعلان کر دیا۔حضرت خلیفتہ المسیح اول نے بیماری کے باوجود یہ مضمون شروع سے لے کر آخر تک مطالعہ فرمایا اور ا- حضرت صاحبزادہ سے فرمایا۔” میں بھی آپ کے انصار اللہ میں شامل ہوں " -2 -A -9 اس انجمن کے قواعد و ضوابط آپ نے یہ تجویز فرمائے: ہر ممبر کا فرض ہو گا کہ حتی الوسع تبلیغ کے کام میں لگا ر ہے اور جب موقعہ ملے اس کام میں اپنا وقت صرف کریں۔ہر ممبر قرآن شریف اور حدیث شریف پڑھنے پڑھانے میں کوشاں رہے۔ہر نمبر سلسلہ کے افراد میں صلح و اتحاد کی کوشش میں مصروف رہے اور جھگڑے کی صورت میں یا خود فیصلہ کریں۔ورنہ حضرت خلیفتہ المسیح سے راہ نمائی حاصل کریں۔ہر قسم کی بدظنیوں سے بچے جو اتحاد اور اتفاق کو کالتی ہیں۔ہر ماہ کے آخر میں اپنے کام کی رپورٹ دے۔اس انجمن کے ممبر رشتہ اتحاد و اخوت کو پختہ کرنے میں ہر ممکن ذرائع بروئے کار لا ئیں۔نبیح و تحمید اور درود شریف بکثرت پڑھیں۔حضرت خلیفتہ المسیح کی فرمانبرداری کا خاص خیال رکھیں۔پنج وقتہ نمازوں میں پابندی کے علاوہ نوافل صدقہ اور روزہ کی طرف بھی توجہ رکھیں آپ نے ممبر شپ کے لئے یہ شرط بھی عائد کی کہ جو شخص اس انجمن میں آنا چا ہے وہ سات دفعہ