تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 18
نسب نامری حضرت مولوی نور الدین نان بیشتری خلیفه ای لاوان من سیدی نورالدین حنابه ستید نا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عن سے لیکر اور حضر من لیفت ایسی اول تک سیدنا حضرت عمر فاروق رضی الله عنه تعاع عبد الرحمن حضرت عبدالله محمد حضرت عبید الله ناتر خوا بر سلیمان امنصور حضرت بلا انت اور من حضر المان را می دادیم بادشاه بیخ شہزادہ اسحاق تواجد ابوالفتح کا مع بیت حضرت احمر فروخ شاه بادشاه کابل - سلطان نصیر الدین محمود العورات تعلمین شاه ابراہیم خواجه شهاب الدین کا تواجه خواجه یوسف خواجه احد شهید شهزاده تاخی محمدشعیب - حضرت شیخ جمال الدین - ی ساخت حافظه یار محمد حافظ عبد العزيز ما فظ نمر الشهـ بال الدین حضرت شیخ سلیمان - حضرت شیخ بہاؤ الدین حافظ عبد الغنی حضرت قاضی عبدالرحمن - حضرت شیخ بدر العرين حافظ عبد الرب - حافظ فخر الدین - حافظ معز الدین - حافظ غلام محمد حضرت حافظ غلام رسول منا والد بزرگوار حکیم الامت مدفون پر مصطفے قبرستان بیش مولوی سلطان احمد مولوی غلام نہیں حکیم مولوی غلام احمد صدا دید خون بھیرا امد فون خالقاه مخدردم میانی ل مولوی محمد بخش مجمى المدين بیٹیا مولوی حافظ محمد تھانیدار مولوی محمد الله مولوی دوست کیر مولوی سردار محمد سائین معبد در جوان رجمون ر وفات اور نو میرا مدفون فرایند احمد بہشتی مقبره قادریان ریکاره که بہشتی مقبره ۳٫۳۰ کی نیست (سم) ۱۳۱۳ اصحاب کی فہرست میں ۲۵۵ قریشی عبدالحق قریشی میراحمد قریشی مصور احمد خلیفہ اسح الاول + (4) غلام بی اے امام بی واله کی شتی ترشی مهم الامت مولوی والدین می را تا الان میں نشا و انجام انتم میانه انیمه امیر محمد جو بتا بار ڈاکٹر محمد عبدالله چنین منیر احمد اتصال سلطان احمد بقیہ جو اگلے صفحات پر دیکھیں ذاکر حبیب راز مفتی کار سادق) (و) غالباً بھیٹر میں مدنی ہیں انکی اور ارشیجان پور کے قریب آباد ہوئی۔ت که ۳۱۳ الصحاب VAL غلام احمد احمد شفیع دیگر تیم ایرانی پرس میانوالی) اسمعیل عبد الماجد کے منتا پر ان سے ایک بیان فر (س) ۳۱۳ اصحاب میں سنتے ان کے بی سیم محمدیان منصور البر ہوگئے تھے اصل یکم اپریل اسلام واقعہ کا ذکر ہے ) 4 (۳) ان کی دو بیٹیاں سربار بی اور مہتاب کی تھیں۔مرسله الیہ میں کہا میں فروخت کرنے کیلئے گئے جہاں زمیر کی مرضی سے انتقال ہوا اور وہیں دفن ہوئے۔ضمیروید ، روی ایم مشیری ے وہ دہلی کے مشہور د مین کا خاندان جس میں منظر ہے ولی اله شاه عبدالعزیز شاه منیع الدین شاه عبدالعنی شاه اسمعیل شہید جیسے بزرگ شامل ہیں ، آپ ہی کی اولا رہے ہیں سے غائی ان کی بیٹی حضرت قاضی امیر حسین کے عقد میں آئی۔رافضل ۲۸ اگست ستاره صفر و کالم ۲) ا حضرت خلیفه این ناول نے لکھا ہے کہ میرے ہر ایک بھائی کے نائبا پانچ پانچ چھ چھ بچے تھے امرتات اینی مشا، یہاں صرف معروف اوور کا ہی ذکر کیا گیا ہے۔در سب بھائی حضرت مسیح موعودہ کے دھوئی ماموریت سے قبل وفات پاچکے تھے (مرقاۃ الیقین مٹا ، مشکا سے معلوم ہوتا ہے کہ حافظ غلام رسول صاحب کیسے سات بیٹے اور در بیان تھیں او حکیم است سب سے چھوٹے تھے حکیم الامت کی ایک نہیں جو احمدی نہیں تھیں جنوری شہداء میں قادیانی بھی تشریف لائیں اصحاب حمد جلد عالم منا ) 4