تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 17 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 17

نسب نامہ حضرت خلیفہ اول سے متعلق ضروری نوٹ حضرت عمران سے حضرت شہزادہ قاضی شعیب شجره خونه الاصفیاء فارسی شده مولفه غلام سرور قریشی اسدی الہاشمی الماری سے ماخوذ ہے۔اور اس سلسلہ کے ناموں کی وضاحت محمد علی اصغر کی مشہور کتاب جواہر فریدی فارسی مش۳۳-۳۴۷) کی روشنی میں کی گئی ہے۔جواہر فریدی اگے اس حت کی نقل قاضی محمد یوسف صاحب فاروقی مرحوم نے مردان سے مولف کو بھجوائی تھی۔کتاب پنجاب یونیورسٹی لائبریری کی فہرست میں موجود ہے مگر مؤلف ہذا کو مل نہیں سکی۔حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے پہلی دفعہ حضرت خلیفتہ اسے عقل کا شجرہ نسب بلکہ ۲۸ مارچ ۱۹۱۳ء میں شائع فرمایا تھا جو آپ کی سوانح عمری (مرقاۃ الیقین) میں بھی موجود ہے۔کہتے ہیںکہ یہ شجرہ نسب مولوی غلام احمد صاحب بھیرہ سے قادیان لائے تھے اور بڑے بڑے کاغذوں پر لکھا تھا۔اس شجرہ نسب میں خزینۃ الاصفیاء کے مقابل کچھ فرق ہے۔بعض افراد کے نام درج نہیں گو بعض نام زیادہ بھی ہیں۔مثلا شیخ فتح شیر خان اور عبد السامح مگر کسی مستند کتاب میں ان کا نام سلسلہ نسب میں نہیں دیکھا گیا۔یہ شجرہ نسب خفیف سے تغیر کے ساتھ مراۃ الانساب من میں بھی درجہ ہے۔جگر کسی پشت میں یہ نام وہاں بھی موجود نہیں۔نائب شدہ ابتدائی کرایوں کی تصدیق خزینۃ الاصفیاء اور جواہرفریدی کے علاوہ انساب کی دوسری کتابوں شوق دمر ا حمد اختر ہوی کی کتاب تذکرہ اولیائے ہند و پاک ہے " سے بھی ہوتی ہے۔بہر کیف بند کا مطبوعہ شجرہ نسب حضرت ورما نے حضرت شہزادہ قاضی محمد شعیب تک یونی پہنچتا ہے۔حضرت امیر المومنین معماری المشائخ شیخ عبد الله حضرت نصیر الدین حضرت سلطان ابرایم درحم طان این ایم ادهم حضرت شیخ اسحاق - حضرت شیخ فتح محمد خان حضرت وانا اکبر حضرت واحفظ الفرج حضرت عبد الله حضرت مسعود حضرت عبد السائح شیخ محمود حضرت ام المان حضرت شیخ فرخ شاه کابلی تقدس سره العزیز حضرت شیخ احمد المحرون حضرت شیخ شہاب الدین حضرت شیخ الله - حضرت شیخ یوسف - حضرت شعیب - حضرت شعیب سے حضرت مولوی نور الدین خلیفہ مسیح الا قل تک کے بندگوں کے نام بلکہ میں مطبوعہ شجرہ نسب پر مبنی ہیں۔عام طور پر انساب کی کتابوں میں حضرت قاضی شعیب کے بیٹے شیخ جمال الدین کو حضرت خواجہ فرید الدین شکر گنج کا والد قرار دیا گیا ہے۔مگر تذ کرہ اولیائے ہند و پاک کے مؤلف کی رائے میں آپ کے والد بزرگوار حضرت شعیب کے ایک بیٹے حضرت سلیمان تھے (مش) تذکرہ اولیاء مؤلفہ رئیس احمد جعفری میں بھی حضرت کے والد کا نام قاضی سلیمانی لکھا ہے میں۔امروہہ کے ایک صاحہ نے تو سیادت فاروقی " کتاب میں یہاں تک ثابت کیا ہے کہ حضرت بابا صاحب سید تھے۔فاروقی النسب نہیں تھے۔(ایضا مت کا مگر یہ صیح نہیں۔قاموس المشاہیر ما مؤلفہ نظامی بدایوانی میں سلیمان کی بجائے شیخ جلال الدین نام لکھا ہے۔اب خواد ولا سلیمان تھے یا شیخ جلال الدین حضرت خلیفتر توانا کا یہ نظریہ موجودہ شجرہ نسب کی روشنی میں بالکل درست ہے کہ حضرت فرید الدین شکر گری کے والد اور پیر سے جد امجد دینی شیخ جمال الدین مرحوم دونوں سگے بھائی تھے۔حضرت حافظ غلام رسول صاحب کی اولاد کے نام حضرت خلیفہ ایج اولی رضی الہ عنہ کے قلی بیاض (جو خاندان خلیفہ اول کے پاس محفوظ ہے) سے ماخوذ ہیں اور باقی کو الف مؤلف کی ذاتی تحقیق کا نتیجہ ہیں !! ؟