تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 365 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 365

تاریخ احمدیت جلد ۳ 357 قادیان میں متعدد پبلک عمارتوں کی تعمیر میں نہیں ہے۔چنانچہ اسی وقت طوفان تھمنا شروع ہو گیا۔فلسفی کو منکر خانه است : از حواس انبیاء بیگانه است ۵۴ افسوس اب مرور زمانہ کی وجہ سے اس مکان اور اس کے ماحول کی ہیئت یکسر بدل گئی ہے۔سید محمد شاہ صاحب گردیزی مشهور ولی حضرت ابو الفضل جمال الدین سید محمد یوسف شاہ کی اولاد میں سے تھے جو ۱۹۸۸ء میں گردیز متصل شهر غزنی سے ہجرت کر کے ملتان تشریف لائے اور اپنے زہد و تقویٰ اور کشف و کرامات کی وجہ سے بہت مشہور ہو گئے ۷ ۱۱۳ء میں وصال ہوا۔(تذکرہ روسائے پنجاب جلد دوم صفحه ۵۰۹) ۵۵ ولادت قریباً ۱۸۴۹ ء وفات ۲۸/ فروری ۱۹۳۱ء آپ مہاراجہ فرید کوٹ کے شاہی طبیب بھی رہے یہ ۹۹-۱۸۹۷ء کی بات ہے اس زمانہ کی ان کے ہاتھ سے لکھی ہوئی بعض چٹھیاں راقم الحروف مولف کے پاس بھی موجود ہیں حکیم صاحب احمدی تھے اور بحیثیت حکیم بھی حضرت خلیفہ اول ان کے ان سے اچھے تعلقات تھے۔وہ بیٹھک جہاں حضرت خلیفہ اول کچھ وقت کے لئے تشریف فرمار ہے اب ان کے صاحبزادہ حکیم فیروزالدین صاحب اس میں مطب کرتے ہیں۔۵۷۔آپ حضرت شیخ بہاء الدین ملتانی قدس سرہ کی اولاد میں سے تھے اپنے بھائی مخدوم بہاول بخش صاحب کی وفات کے بعد ۱۸۹۶ء میں درگاہ کے سجادہ نشین ہوئے ۱۹۲۱ء میں آپ کا انتقال ہوا اور آپ کے صاجزادہ خان بہادر شیخ مخدوم مرید حسین صاحب آپ کے جانشین ہوئے مفصل حالات کے لئے ملاحظہ ہو تذکر، رؤسائے پنجاب جلد دوم صفحہ ۵۰۰) اینا یاد گار دربار ۱۹۱ء حصہ دوم صفحه ۴۸۷-۴۸۵ مرتبه منشی محمد دین صاحب ایڈیٹر میونسپل گزٹ لاہور۔۵۷ یہ انجمن بر صغیر پاک وہند کی قدیم اسلامی انجمنوں میں سے ہے جس کی بنیاد غالبا ۱۸۸۴ء میں رکھی گئی ابتداء اس کے زیر انتظام ایک پرائمری سکول جاری ہو ا جس کے ہیڈ ماسٹر مدت تک ایک مخلص احمدی ماسٹر بد ر الدین صاحب رہے جن کے ایک صاحبزادہ حکیم محمد زاہد صاحب اب شور کوٹ میں ہیں۔اس ابتدائی سکول کا ہال بھی ایک تاریخی ہال تھا جس میں دوسرے مسلم زعماء کے علاوہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت خلیفہ اول نے بھی تقاریر فرما ئیں افسوس یہ ہال سیلاب کی وجہ سے گر چکا ہے۔اور اس کی جگہ اب موجودہ اسلامیہ ہائی سکول کے صحن نے لے لی ہے۔انجمن اسلامیہ کا پہلا سالانہ جلسہ ۵/ مارچ ۱۸۹۰ء کو منعقد ہوا۔جس کی مفصل رو کر اد اخبار "سرمور گزٹ ( ناہن میں اپریل ۱۸۹۰ء کے متعدد نمبروں میں شائع ہوئی۔اس اخبار کا ایک متعلقہ ایشوع خلافت لائبریری ربوہ میں بھی موجود ہے)۔" سر مور گزٹ" سے معلوم ہوتا ہے کہ ان دنوں انجمن کے صدر سردار محمد حیات خان صاحب سی ایس آئی تھے۔ایک عرصہ تک مخدوم زاده سید محمد ولایت حسین صاحب جیلانی اس کے صدر اور سید محمد اولاد علی شاہ گیلانی مہجور ایم۔اے سیکرٹری رہے اب سید فیض مصطفی صاحب گیلانی سیکرٹری ہیں۔۵۸ بدر ۲۸ / جولائی ۱۹۱۰ء صفحه او ۴/ اگست ۱۹۱۰ء صفحه اکالم ۱۱۲ اگست ۱۹۱۰ء صفحه ۲۰۳ ( ایضار روایات حکیم محمد عمر صاحب ۱۸/ اگست ۱۹۱۰ ء صفحہ ۴-۵- حکیم محمد عمر صاحب کے مختصر حالات یہ ہیں۔قریباً ۱۸۸۵ء میں پیدا ہوئے ۱۸۹۷ء میں پہلی دفعہ قادیان کی زیارت کی ۱۹۰۸ء میں حضرت مسیح موعود کی وفات کے وقت مرشد آباد میں تھے وہاں سے مستقل ہجرت کر کے قادیان آگئے حضرت خان صاحب منشی فرزند علی صاحب کو تحریک بیعت کر کے پہلی دفعہ قادیان آپ ہی لائے تھے خان صاحب نے احمدیت سے قبل ایک سوالنامہ حضرت خلیفہ اول کی خدمت میں لکھا آپ نے قاضی محمد ظہور الدین صاحب اکمل کو جواب کے لئے ارشاد فرمایا۔حکیم صاحب نے عرض کی حضور جواب دیتا ہے تو آپ جواب دیں جس پر حضرت اسی وقت کھڑی باندھ کر بیٹھ گئے اور اپنے قلم سے جواب لکھا جس پر خان صاحب نے احمدیت قبول کرلی۔۵۹ پد / ۲۱۰۲۸ / جولائی ۱۹۱۰ ء صفحہ اکالم ۱-۲ ۶۰ ۶۳ الحکم ۲۸/ اگست ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۳ کالم ۲-۳ بدر ۱۸ ستمبر ۱۹۱۰ء صفحه ۱۱۹ الحکم ۷ / فروری ۱۹۱ء صفحہ ۶ کالم ۲ پدر ۱۰-۱۳ نومبر ۱۹۱۰ء صفحه ۶۰۵ ۶۴ اس دوران میں آپ کو حضرت صاجزادہ مرزا بشیر احمد صاحب اور حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب کی تعلیمی خدمت کا زریں موقعہ بھی میسر آیا۔الدر المنشور في لمعات النور غیر مطبوعه از قلم حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی