تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 366 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 366

تاریخ احمد بیت جلد ۳ 358 قادیان میں متعدد پبلک عمارتوں کی تعمیر ۹۵ روایات صحابہ غیر مطبوعہ رجسٹر نمبر ۴ صفحه ۴۲ حیات تدى " حصہ چہارم صفحہ ۱۰۹ او صفحه ۲۶ - الدر المنشور فى لمعات النور (غير مطبوعه) ۶۷- خواجہ کمال الدین صاحب بوقت ملاقات موجود نہیں تھے۔خدا کے امور اور دیگر ارضی علماء کی قوت قدمی اور تعلیم میں زمین و آسمان کا جو فرق ہوتا ہے۔اس کی ایک دلچسپ مثال خود مولانا شیلی ہی کی زندگی سے پیش کرتا ہوں۔مولانا کے سوانح نگار جناب سلیمان ندوی " حیات شیلی " ( صفحہ ۵۸۴) میں پٹنہ کا یہ واقعہ لکھتے ہیں۔"اسٹیشن پر ان کے استقبال کے لئے معتقدین کا نہایت کثرت سے مجمع تھا۔۔آدھی راہ کے بعد طلبہ کے اصرار سے گاڑی کے گھوڑے کھول دیئے گئے اور خود طلبہ ذوق و شوق کے عالم میں اس گاڑی کو اپنے ہاتھوں سے کھینچ کر فرودگاہ تک لائے۔مولانا ( شبلی ناقل) فرماتے ہیں یہ تو نہیں کہتا۔رعونت پرست نفس کو پھریری نہیں ہوئی ہوگئی لیکن واقعا ہنسی آتی تھی کہ عجب خوش اعتقاد بلکہ ضعیف الاعتقاد ہیں اس کے مقابل تاریخ احمدیت جلد سوم (صفحه ۵۴۰) پر یہ واقعہ گذر چکا ہے کہ جب حضرت مسیح موعود کے خدام نے یہ حرکت کرنا چاہی تو حضور نے ارشاد فرمایا۔فور انگھوڑے جو تو ہم انسان کو حیوان بنانے کے لئے دنیا میں نہیں آئے ہم تو حیوان کو انسان بنانے کے لئے آئے ہیں۔اخبار بد ر۲۷/ اکتوبر ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۳۰۲ اخبار بدر ۲۲ دسمبر ۱۹۱۰ء صفحه ۱۰۰۱ ال البدری ۲/ مارچ ۱۹۰۳ء صفحه ۷۵ ۷۲- سعید الاذہان ۱۹۱۰ء صفحہ ۳۹۹-۴۰۳ و اصحاب احمد جلد دهم صفحه ۱۸۳ ۷۳۔حضرت خلیفہ اول نے تیسرے روز حکیم غلام محمد صاحب کو بھجوایا کہ خون آلود پگڑی لے آؤ۔شیخ صاحب خودی پگڑی لے گئے فرمایا وہ بگڑی ہمیں دے دو۔ان کے توقف پر آپ شیخ صاحب کا مطلب سمجھ گئے۔اور فرمایا اچھا اسے کیا اور استعمال کر لو۔لیکن ٹکڑے کر کے تقسیم نہ کرنا اور ان کو ایک نئی پگڑی بھی عنایت فرمائی۔(اصحاب احمد جلد دہم صفحہ ۱۸۳) ۷۴ شعید الازبان ۱۹۱۰ء نمبر جلد ۵ صفحه ۴۰۳-۴۰۴ ۷۵- بدر ۲ / فروری ۱۹۱۱ء صفحه ۳ کالم ۲ پدر ۱۶ / فروری ۱۹۱۱ء صفحہ ۲ کالم -۲ ہے۔بدر ۲/ فروری ۱۹۱۱ء صفحہ ۲ کالم ۲ ۷۸ - الحکم کے دسمبر ۱۹۱۰ء صفحہ 191° ۷۹ ہر واقعہ میں بعض مستثنیات بھی ہوتی ہیں بعض خبیث الفطرت لوگ آپ کی بیماری میں بھی فتنہ اٹھاتے رہے۔چنانچہ یہ مشہور کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خواب میں دیکھا تھا کہ ایک شخص گھوڑے سے گر پڑا۔پھر حضور کو الہام ہوا۔"استقامت میں فرق آگیا۔(تذکرہ طبع دوم صفحہ ۴۷۹) سو معاذ اللہ مولوی صاحب کی استقامت میں فرق آگیا ہے۔بعض نے کہا کہ نعوذ باللہ آپ مرتد ہو گئے۔(الفضل جلد نمبر ۵۲ صفحہ سے کالم مگر یہ سب دماغی بے راہ روی کا نتیجہ تھا۔اور یہ الہام در اصل حضرت خلیفہ اول کی ذات بابرکات کے متعلق نہیں بلکہ انہی لوگوں کے متعلق تھا اور اس میں بتایا گیا تھا کہ ایک شخص کے گھوڑے سے گرنے کے بعد بعض افراد استقامت و عزیمت کے مقام سے گر جائیں گے۔سوانساری ظہور میں آیا۔(الحکم ۱۴/ جنوری ۱۹۱۲ء صفحہ ۳ کالم ) باقی اس دور ابتلاء میں حضرت خلیفہ اول کو کس درجہ قوت ایمان عطا ہوئی اس کا ذکر آگے آرہا ہے۔۸۰ نام دارد ۱ رخسار ۸۲- کپی ۸۳- ایک انگریزی دوا ۸۴- پیاس ۸۵- یہ ایک خط کا اقتباس ہے۔جو آپ نے حکیم فیروز الدین صاحب (مولف رموز طلباء)لاہور کے نام / نمبر ۱۹۲۳ء کو تحریر فرمایا۔