تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 355 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 355

تاریخ احمدیت جلد ۳ 347 قادیان میں متعدد پبلک عمارتوں کی تعمیر باسط اسے کہتے ہیں جو فراخی سے دیتا ہے میرا مولی وقت پر مجھے ہر چیز دیتا ہے۔اس کے بڑے بڑے فضل مجھ پر ہیں میں ابھی گرا تھا۔اگر گھوڑی آنکھ پر لات مار دیتی تو کیا حقیقت تھی یہ اسی کا فضل تھا سال گذشتہ میں کئی قسم کی غلطیاں ہوئیں مگر خدا کے فضل سے امید ہے کہ آئندہ نہ ہوں گی " حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کی تقریر : ۲۶/ دسمبر ۶۱۹۱۰ کو حضرت صاحبزادہ صاحب کی تقریر ہوئی۔اس تقریر میں آپ نے جماعت کو اس خطرناک غلطی پر کھلے اور واضح لفظوں میں زبر دست انتباہ کیا کہ بعض احمدی مقرر اپنے لیکچروں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذکر سے عحمد اگریز کر رہے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہماری ترقی کی رفتار حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کی نسبت نہایت کمزور دھیمی اور ست ہے۔اس طرح آپ نے اس طلسم کو جس سے قوم مسحور ہو رہی تھی باطل کر دیا۔چنانچہ آپ نے جماعت کے دوستوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔" تم اپنے امتیازی نشان کو کیوں چھوڑتے ہو۔تم ایک برگزیدہ نبی کو مانتے ہو اور تمہارے مخالف اس کا انکار کرتے ہیں۔حضرت صاحب کے زمانے میں ایک تجویز ہوئی کہ احمدی غیر احمدی مل کر تبلیغ کریں۔مگر حضرت صاحب نے فرمایا کہ تم کون سا اسلام پیش کرو گے جو خدا نے تمہیں نشان دیئے جو انعام خدا نے تم پر کیا۔وہ چھپاؤ گے ایک نبی ہم میں خدا کی طرف سے آیا۔اگر اس کی دہ اتباع کریں گے تو وہی پھل پائیں گے۔جو صحابہ کرام کے لئے مقرر ہو چکے ہیں۔اس وقت ایک دنیا کی نظریں ہماری طرف ہیں وہ بچی تعلیم جو خدا نے ہمیں دی ہے ہمیں چاہئے کہ بلا دھڑک بلا چھپائے بلا کسی عذر 104 کے تمام دنیا میں پہنچا دیں "۔یہ تقریر گویا ایک صور اسرائیل تھی جس نے قوم کے مردہ دلوں میں پھر سے زندگی کا تازہ خون بھر دیا۔چنانچہ اخبار "الحکم " نے اس پر لکھا: یہ تقریر احمدی قوم میں نئی روح پیدا کرنے والی ہے۔احمدی قوم کی ترقی میں ایک امر حارج ہو رہا تھا اور وہ یہ کہ ہم لوگ اپنی تقریروں اور تحریروں میں اس امر کی طرف جا رہے تھے کہ سلسلہ کا ذکر درمیان میں نہ آئے۔اور اسی کو اتحاد المسلمین سمجھتے تھے اور یہ خیال کرتے تھے کہ یہی راہ ہماری ترقی کا موجب ہو گی۔مگر حضرت صاحبزادہ صاحب نے قوم کو جگا دیا۔اور آگاہ کیا کہ "کیس راہ تو میروی بہ ترکستانست " اس تقریر نے حاضرین کے دل پر خاص اثر کیا۔دراصل یہ حضرت صاحبزادہ صاحب ہی کا حق تھا کہ وہ اس غلطی سے جو غفلت سے قوم میں پیدا ہو چکی تھی آگاہ فرماتے۔-