تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 354 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 354

تاریخ احمدیت جلد ۳ 346 قادیان میں متعدد پیلیک عمارتوں کی تعمیر جماعت احمدیہ کا مرکزی جلسہ سالانه ۲۵-۲۶-۲۷ / دسمبر ۱۹۱۰ء کو تین روز جلسہ سالانہ ۱۹۱۰ء منعقد ہوا۔کل حاضری اڑھائی ہزار کے قریب تھی اس جلسہ پر بھی بیعت کثرت سے ہوئی۔بیعت کرنے والے اپنی پگڑیاں پھیلا دیتے تھے۔جن کا ایک سرا حضرت خلیفہ اول کے ہاتھ میں ہو تا تھا اور کوئی شخص یہ آواز بلند آپ کے ساتھ ساتھ بیعت کے الفاظ دہراتا جاتا تھا اور سب کہتے جاتے تھے۔جلسہ کی اصل روح رواں حضرت خلیفہ اول کی تقریریں تھیں جو آپ نے علالت طبع کے باوجود فرما ئیں آپ کے علاوہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب اور مولوی سید محمد احسن صاحب امرد ہوی کی تقریر میں خاص طور پر قابل ذکر تھیں۔حضرت خلیفہ اول کی تقریریں : آپ نے اس تقریب پر تین تقریریں فرما ئیں۔(1) پہلی تقریر کلمہ طیبہ کے لطیف فلسفہ پر جلسہ کے پہلے دن بعد نماز ظهر فرمائی۔شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی ایڈیٹر " الحکم " یہ تقریر ساتھ ساتھ لکھتے گئے۔اور بعد ازاں اسے مجمع کو سنا دیا۔اس دوران میں احباب نهایت درجه ذوق و شوق کے ساتھ آپ سے شرف مصافحہ کے لئے آتے رہے یہ بھی ایک قابل دید نظارہ تھا۔جس سے خلافت حقہ کی قبولیت اور تاثیر قدسی کی جھلک نمایاں ہوتی تھی - ) (۲) حضرت کی دوسری تقریر ۱۲۷ دسمبر کو بعد نماز ظہر و عصر ہوئی۔اس تقریر میں آپ نے فرمایا۔" میرے تم پر بہت حقوق ہیں۔اول حق تو یہی ہے کہ تم نے میرے ہاتھ پر میری فرمانبرداری کا اقرار کیا ہے۔جو اقرار کے خلاف کرتا ہے۔وہ منافق ہو جاتا ہے۔میں ڈرتا ہوں کہ ایسا نہ ہو میری نافرمانی سے کوئی منافق ہو جائے۔دوسرا حق یہ ہے کہ میں تمہارے لئے تڑپ تڑپ کر دعائیں کرتا ہوں۔تیسرا حق یہ ہے کہ میں آج کل نماز میں بھی بالکل سجدہ نہیں کر سکتا۔مگر تمہاری بھلائی کے لئے نماز سے بڑھ کر سجدہ میں دعا ئیں کی ہیں پس میری حق شناسی کرو اور با ہم تفرقہ چھوڑ دد- 1 (۳) آپ کی تیسری تقریر ۲۷ / دسمبر کی شام کو بعد نماز مغرب تمام احمدیہ انجمنوں کے عہدیداروں کے سامنے ہوئی۔جن کو آپ نے حاضر ہونے کا پہلے سے ارشاد فرمایا تھا اس تقریر میں پہلے تو آپ نے فرمایا کہ " سال گذشتہ میں میرے دل پر ایک رنجیدگی تھی کہ آپ لوگ مجھ سے نہیں ملے تھے۔اس لئے میں نے چاہا تھا کہ اگر سال آئندہ زندہ رہوں۔تو آپ کو ملامت کروں گا۔اس کے بعد آپ نے انہیں نہایت لطیف پیرائے میں چند اہم نصائح فرما ئیں۔مثلاً جھگڑے نہ کرد - صبر سے کام لو اپنی ذاتی آمد سے صدقہ و خیرات دو۔اپنے چندہ کی نسبت بد گمانی نہ کرو وغیرہ وغیرہ۔آخر میں فرمایا۔" یہ معرفت کی باتیں ہیں۔مجھے کہنے میں معذور سمجھو۔میرے دل کی خواہش برس بھر سے تھی۔بد گمانی یہی ہوئی کہ شاید پیسوں کے لئے بلاتا ہے۔میں مالوں کا خواہش مند نہیں۔میرا نام آسمان میں عبد الباسط ہے۔