تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 352
تاریخ احمد بیت - جلد ۳ بھی پڑھیں گے"۔344 قادیان میں متعدد پبلک عمارتوں کی تعمیر ان تاثرات کو خواجہ صاحب کے اس طرز عمل نے اور بھی تقویت پہنچائی کہ انہوں نے پہلے تو لیکچروں میں سلسلہ کے بارے میں خاموشی سی اختیار کی پھر جب دوسرے حلقوں سے احمدیت کے بارے میں سوالات ہونے لگے تو انہوں نے بر سر مجلس حضرت مسیح موعود کے حقیقی منصب کو گرا کر پیش کرنا شروع کر دیا۔مثلاً انہوں نے 1911ء کے آغاز میں "شبان المسلمین " سیالکوٹ کے جلسہ میں صاف کہا کہ "المسیح الموعود " کوئی نبی نہیں ہو گا۔بلکہ امتی ہو گا۔اور پھر اخفائے حق کی یہاں تک نوبت آن پہنچی کہ انہوں نے برملا یہ کہنا شروع کر دیا کہ احمدیت کا ذکر سم قاتل" ہے۔انا للہ وانا اليه راجعون۔اس انتہا درجہ کی مداہنت کے باوجود خواجہ صاحب جہاں جا ایک طبقہ میں خاص طور پر یہ سوال اٹھتا کہ آپ دوسروں کے پیچھے نماز کیوں نہیں پڑھتے؟ اور اس کے نتیجہ میں کفر و اسلام کی بحث بھی چھڑ جاتی۔چنانچہ اخبار بد ر نے انہی دنوں صاف لکھا کہ ” یہ سوال بہت دفعہ اٹھا ہے۔حضرت مسیح موعود مرحوم و مغفور کی زندگی میں بھی اس کے متعلق بارہا سوال ہوا۔۔۔آپ کی وفات کے بعد جہاں کہیں جناب خواجہ صاحب نے اپنے پر اثر لیکچروں کے ذریعہ سے اسلامی حمایت کا بے نظیر نمونہ دکھلایاو ہیں یہ ۱۵۰ سوال اٹھا"۔اخبار "بدر نے اس سوال کے متعدد بار اٹھنے کی وجہ سے متعدد قسطوں میں ایک مفصل مضمون شائع کیا جس کے شروع میں بتایا کہ اس کا جواب جماعت احمدیہ کی طرف سے ہمیشہ ایک ہی رہا ہے اور وہی اب تک قائم ہے اور وہی قائم رہے گا۔اس تمہید کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی متعدد تحریرات شائع کیں جن سے اس مسئلہ پر تیز روشنی پڑتی تھی۔مثلاً حضور علیہ السلام کی یہ تحریر شائع کی گئی کہ : صبر کرو اور اپنی جماعت کے غیر کے پیچھے نماز مت پڑھو بہتری اور نیکی اسی میں ہے اور اس میں تمہاری نصرت اور فتح عظیم ہے اور یہی اس جماعت کی ترقی کا موجب ہے دیکھو دنیا دار روٹھے ہوئے اور ایک دو سرے سے ناراض ہونے والے بھی اپنے دشمن کو چار دن منہ نہیں لگاتے اور تمہاری ناراضگی اور روٹھنا تو خدا تعالٰی کے لئے ہے تم اگر رلے ملے رہے تو خدا تعالیٰ جو خاص نظر تم پر رکھتا ہے وہ نہیں رکھے گا پاک جماعت الگ ہو تو پھر اس میں ترقی ہوتی ہے"۔اس سلسلہ مضمون کے ساتھ حضرت خلیفہ اول کی اصلاح و نظر ثانی کے بعد (خان صاحب) منشی فرزند علی صاحب (فیروز پوری) کا مضمون چھپا جس میں اس مسلک کی تائید ہوتی تھی۔or