تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 16 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 16

تاریخ احمدیت - جامد ۳ 16 خلیفتہ المسیح الاول" کے حالات زندگی ( قمل از خلافت) (۱۴۰۵-۱۳۳۶) کا حملہ ان میں سب سے آخری تھا۔ظہیر الدین بابر (۱۴۸۳-۱۵۳۰ء) نے ۱۵۰۹ء میں اسے فتح کیا۔اس کے بعد آئے دن کے بیرونی حملوں سے برباد ہو کے رہ گیا۔سب سے زیادہ تباہی احمد شاہ کے جرنیل نور الدین نامی شخص کے ذریعہ سے ہوئی جس نے ۱۷۵۴ء کے قریب اس قدیم شہر کو تاخت و تاراج کر دیا۔جس پر شیر شاہ سوری نے اپنے عہد حکومت میں اسے دوبارہ آباد کیا۔شاہان مغلیہ کے زمانہ میں اسے برابر عروج حاصل ہو تا رہا۔مغلوں نے اس شہر میں پختہ عمارات بنا ئیں اور اس کے گرد شہر پناہ بھی تعمیر کی گئی جس کے آٹھ بڑے بڑے دروازے تھے۔فصیل تو منہدم ہو چکی ہے مگر اس کے آثار و نشانات دروازوں کی شکل میں ابھی تک موجود ہیں۔مغلیہ حکومت میں اس تاریخی شہر کو جور دلق حاصل ہوئی بعد ازاں سکھ گردی کے پر آشوب ایام میں بالکل غارت ہو گئی۔یہی وہ تاریک ترین زمانہ ہے جبکہ خدا تعالیٰ نے نور الدین ہی کے مبارک نام سے من ولادت بھیرہ ہی کی سرزمین میں ایک عظیم الشان اور برگزیدہ انسان پیدا کیا۔پہلے نور الدین (احمد شاہ کے جرنیل) نے تو بھیرہ کی اینٹ سے اینٹ بجادی تھی۔مگر اس نور الدین نے (جو وہ بھی احمد کی فوجوں کا سپہ سالار بنا) اپنے نور ایمان و عرفاں نور اخلاق و توکل اور نور خلافت سے نہ صرف دین اسلام کا نور چار دانگ عالم میں پھیلا دیا بلکہ اس کے قدم سے بھیرہ کا نام و مقام بھی ہمیشہ کے لئے روشن ہو گئے۔جب تک یہ زمین قائم ہے آسمان شہرت پر اس کا نام بھی قیامت تک چہکتا رہے گا انشاء اللہ۔میری مراد امیر المومنین خلیفتہ المسیح اول مولانانور الدین اللہ سے ہے جو پنجاب کے سکھ راجہ شیر سنگھ کے عہد حکومت میں ۱۳۵۸ھ یا ۱۸۳۱ ء یا ۱۸۹۸ سمت کے قریب بھیرہ کے محلہ معماراں) میں تولد ہوئے دلی کے تخت پر اس وقت ابو ظفر سراج الدین بہادر شاہ متمکن تھا اور اس کا۔۔۔۔۔۔روز نامچہ "سراج الاخبار " کے نام سے چھپنا شروع ہو چکا تھا یا ہونے والا تھا اور ملک ہند کے متعدد مقامات آگرہ - میرٹھ بنارس - بریلی - پنجاب سمیتی اور مدراس وغیرہ میں بڑی کثرت سے مطابع و اخبارات جاری ہو چکے تھے۔اور ہو رہے تھے۔ہندوستان کے ہمسایہ ممالک میں سے ایران پر قاچاری خاندان حکمران تھا اور ترکی پر سلطان عبد المجید اول کا پھر یہ الہرا رہا تھا۔حضرت مولوی نورالدین صاحب کے والد بزرگوار کا نام حضرت حافظ غلام رسول صاحب خاندان اور والدہ ماجدہ کا نام نور بخت تھا۔آپ کا سلسلہ نسب باپ کی طرف سے بتیس (۳۲) واسطوں کے ساتھ خلیفتہ الرسول حضرت فاروق اعظم سید نا عمر ال تک پہنچتا ہے۔داد ھیال کے علاوہ نھیال سے بھی آپ کا خاندان شرف و مسجد میں نہایت اعلیٰ ہے چنانچہ آپ کی والدہ ماجدہ