تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 347 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 347

تاریخ احمدیت جلد ۳ 339 قادیان میں متعدد پبلک عمارتوں کی تعمیر -۲۰ - بیماری کے دوران میں آپ کی طبیعت اچار کی طرف متوجہ ہوئی۔اس خواہش کے اظہار پر کثرت سے مختلف قسم کے اچار آنے لگے اس پر آپ نے فرمایا۔میرے لئے اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا بسط کیا ہے جس چیز کی خواہش میرے دل میں آتی ہے وہی کثرت سے مہیا ہو جاتی ہے۔یہ اس کار تم اور غریب نوازی ہے۔۲۱ - اکبر شاہ خاں نجیب آبادی نے یہ اطلاع دی کہ میاں عبدالحی صاحب نے آج تقویٰ پر لیکچر دیا اور بہت اچھا لیکچر دیا یہ سن کر فورا بیٹھ گئے اور سجدہ شکر کیا۔اور دیر تک دعائیں کرتے رہے۔پھر خودہی فرمایا مجھ کو اس قدر ضعف ہے کہ بیٹھ نہیں سکتا۔لیکن اکبر شاہ خاں نے ایسی بات سنائی کہ میں خوشی کے سبب بیٹھ گیا۔۲۲- شیخ یعقوب علی صاحب نے سوال کیا کہ آپ کی سب سے بڑی خواہش کیا ہے۔فرمایا مختصر الفاظ میں یہ ہے کہ قرآن مجید عملی طور پر کل دنیا کا دستور العمل ہو۔آئندہ خلیفہ کے لئے وصیت حضرت خلیفہ اول نے مسند خلافت پر متمکن ہوتے وقت اپنے پہلے خطبہ میں فرمایا تھا کہ میں چاہتا تھا کہ حضرت صاحبزادہ میاں محمود احمد جانشین بنتا اور اسی واسطے میں ان کی تعلیم میں سعی کرتا رہا۔لیکن جب خدا کی مشیت ازلی نے آپ ہی کو خلافت کی خلعت سے نوازا۔تو آئندہ کے لئے حضرت کی نگاہ انتخار پر پڑنے لگی۔باوجود خلیفہ ہونے کے آپ کے دل میں حضرت صاحبزادہ صاحب کا سب سے زیادہ احترام تھا۔سفر ملتان میں تشریف لے گئے تو آپ ہی کو امیر مقامی بنایا۔میر مجلس بنانے کا سوال اٹھا تو آپ ہی کو اس غرض کے لئے نامزد فرمایا اس طرح اب جو آپ بیمار ہوئے تو آپ کی خدمت میں حضرت صاحبزادہ صاحب آئے تو حضرت نے ان کو ارشاد فرمایا کہ میرے سر پر ہاتھ رکھ کر دعا کرتے رہو۔چنانچہ آپ حضرت خلیفہ اول کے سر پر ہاتھ رکھ کر دعا کرتے رہے۔II اس بیماری میں آپ نے اپنی بجائے نمازوں میں امامت وغیرہ کے فرائض حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ہی کے سپرد کر دئیے۔اسی طرح زندگی کے آخری ایام میں بھی جبکہ آپ مرض الموت میں تھے۔حضرت صاحبزادہ صاحب ہی کو امام مقرر فرمایا۔بعض لوگوں نے اس پر اعتراض بھی کیا۔مگر آپ نے اپنا فیصلہ قائم رکھا۔چنانچہ مولوی ظهور حسین (سابق) مبلغ بخارا) کی روایت ہے۔کہ حضرت حافظ روشن علی صاحب نے ہمیں کلاس میں بتایا کہ ان ایام میں جبکہ حضرت میاں صاحب امام الصلوۃ تھے۔مولوی محمد علی صاحب مجھے ملے اور کہا کہ آپ حضرت خلیفتہ المسیح کے بلا تکلف دوست ہیں میرا نام لئے بغیر ان سے عرض کریں۔کہ جماعت کے بڑے بڑے جید عالم موجود ہیں ان کی موجودگی میں میاں صاحب کو امام