تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 338
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 330 قادیان میں متعدد پبلک عمارتوں کی تعمیر اس حادثہ کے بعد شیخ رحمت اللہ صاحب نے اپنی اہلیہ کو آواز دی اور وہ چار پائی اور کپڑا لے آئیں اور آپ چارپائی پر لیٹ گئے۔اس دوران میں قریب کے بعض احمدی دوست مثلاً میر حسین صاحب بریلوی سید عبدالرحمن صاحب (خلف الرشید حضرت سید عزیز الرحمن صاحب) اور ان کی والدہ بھی پہنچ گئیں۔حضور کے سر سے خون بہہ رہا تھا جو سر پر پانی ڈالنے کے باوجود بند نہ ہوا۔شیخ صاحب نے اپنی پگڑی سے خون صاف کیا۔تھوڑی دیر بعد ہوش آئی تو فرمایا۔خدا کے مامور کی بات پوری ہو گئی۔شیخ صاحب نے عرض کی کون سی بات فرمایا۔کیا آپ نے اخبار میں نہیں پڑھا کہ حضور نے میرے گھوڑے سے گرنے کی بابت خواب دیکھی تھی۔ازاں بعد آپ کے شاگر د حکیم غلام محمد صاحب امرت سری اور آپ کے بچوں کے خادم محی الدین صاحب آپ کی چارپائی اٹھا کر آپ کے مکان میں لے آئے۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ایدہ اللہ نے "نشان آسمانی" کے عنوان سے ایک مضمون شائع کیا۔جس میں اس واقعہ کی تفصیلات پر روشنی ڈالنے کے بعد دنیا کو اس نشان سے فائدہ اٹھانے کی طرف توجہ دلائی اور لکھا: پیشگوئی کا ایسے وقت میں ہوتا جب آپ کے پاس کیا قادیان کے احمدیوں میں سے کسی کے پاس بھی گھوڑا نہ تھا۔پھر اس عرصہ میں حضرت مسیح موعود کافوت بھی ہو جاتا اور اس پیشگوئی کا بالکل ظہور نہ ہونا۔پھر کسی شخص کا عزیزم عبد الحی سلمہ اللہ تعالٰی کو گھوڑا ہر تہ پیش کرنا اور خریدا ہوا نہ ہونا۔نواب صاحب کے خود آکر ملنے کے باوجود حضرت مولوی صاحب کا وہاں تشریف لے جانا۔رکابوں کا چھوٹا ہونا اور باوجود کہنے کے آپ کا بچوں کی تکلیف کے خیال سے ان کے لیے کرنے سے منع کرنا۔احباب کا ساتھ چلنے کی خواہش کرنا اور آپ کا روک دیتا۔گھوڑے کا بدک کر تیز ہو جانا اور دونوں ساتھیوں کا ، رہ جانا اور پھر آپ کا خاص اس جگہ پر کرنا جہاں پتھر تھے۔ایسے عجیب واقعات ہیں کہ سوائے اس کے کہ یقین کیا جائے کہ خدا تعالیٰ کے خاص ارادے کے ماتحت حضرت صاحب کی پیشگوئی کو پورا کرنے کے لئے ہوئے ہیں اور کوئی صورت نظر نہیں آتی۔جماعت کی طرف سے اپنے امام سے آپ کے گھوڑے سے گرنے کا واقعہ پوری بے پناہ خلوص و محبت کا اظہار جماعت کے لئے ایک دل ہلا دینے والا حادثہ تھا جس نے سب ہی کو تڑپا دیا اور جوں جوں دوستوں کو یہ خبر پہنچی وہ دیوانہ وار اپنے محبوب آقا کی عیادت کے لئے کھچے چلے آئے۔بیمار پری کے لئے ہر طرف سے بکثرت خطوط پہنچنے لگے۔اور جماعت کے چھوٹے بڑے سب دعاؤں میں