تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 337
329 قادیان میں متعد د پالک عمارتوں کی تعمیر مو کھیر کا جلسہ ۱۲/ نومبر سے ۱۴/ نومبر ۱۹۱۰ ء تک تین روز جاری رہا۔جس میں ان بزرگوں کے علاوہ حضرت میر قاسم علی صاحب نے بھی تقریر کی جو دہلی سے یہاں حضرت خلیفہ اول کے حکم سے پہنچ گئے تھے جلسہ غیر معمولی طور پر کامیاب رہا اور کئی سعید رو میں سلسلہ احمدیہ میں داخل ہو ئیں۔حضرت خلیفہ اول کا گھوڑے سے گرنے کا حادثہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو ۱۹۰۳ء میں بذریعہ خواب یہ نظارہ دکھایا گیا تھا کہ حضرت مولوی نور الدین صاحب گھوڑے پر سے گر پڑے ہیں یہ خواب بالکل مخالف حالات میں پوری ہوئی اور احمدیت کی صداقت کا ایک چمکتا ہو انشان ظاہر ہوا۔واقعہ یہ ہوا کہ حضرت نواب محمد علی خان صاحب رئیس مالیر کوٹلہ اپنے وطن سے چند مہینوں کے بعد واپس آئے تھے اور آپ ان کے گھر تشریف لے جانا چاہتے تھے یہ جمعہ کا دن اور ۱۸/ نومبر ۱۹۱۰ ء کی تاریخ تھی۔ابھی آپ جانے کا ارادہ کر ہی رہے تھے کہ خود حضرت نواب صاحب ملنے کے لئے آگئے اس صورت میں بظاہر کوئی ضرورت نہ تھی کہ آپ ایک میل دور ان کی کو ٹھی پر تشریف لے جاتے۔چنانچہ بعض دوستوں نے عرض بھی کیا مگر خداتعالی کے منشاء کو کون روک سکتا ہے۔آپ سرخ رنگ کی ایک گھوڑی پر سوار ہو کر (جو میاں عبدالحی صاحب کو بطور تحفہ ملی تھی) نواب صاحب کی کوٹھی پر تشریف لے گئے واپسی پر بہت سے احباب ساتھ چلنا چاہتے تھے مگر آپ نے روک دیا کہ پیچھے آہستہ آہستہ چلے آؤ اور صرف دو آدمی آپ کے ساتھ تھے۔مگر گھوڑی کے بدک کر تیز ہو جانے کی وجہ سے وہ پیچھے رہ گئے۔آپ کے مکان کی طرف دو راستے آتے تھے۔ایک بازار سے دو سرا تنگ گلی سے ہو کر۔اس خیال سے کہ بازار کا راستہ زیادہ صاف ہے اور لوگوں کی کثرت کی وجہ سے زیادہ محفوظ ہے۔پہلے آپ ای طرف چلے لیکن مین وہاں پہنچ کر دل میں تحریک پیدا ہوئی کہ یہاں عورتیں اور بچے ہوں گے۔ایسا نہ ہو کہ کسی کو تکلیف ہو۔آپ وہاں سے لوٹ کر دوسرے راستہ کی طرف چل پڑے جو نسبتاً بہت زیادہ خطرناک تھا۔گھوڑی تو آگے ہی تیز ہو رہی تھی اس راستہ میں اس طرح بد کی کہ ایک موڑ کے آگے ایک شخص مہرالدین آتشباز کے مکان کے قریب پہنچ کر آپ کا پاؤں رکاب ہی میں لٹک گیا اس وقت شیخ رحمت اللہ صاحب کو مکہ فروش اتفاق سے پہنچ گئے اور انہوں نے بھاگ کر لگام پکڑلی۔گھوڑی انہیں دھکیل کر آٹھ دس قدم تک لے گئی اسی اثناء میں آپ کا پاؤں رکاب سے نکل گیا۔آپ ایک پتھر پر گر پڑے اور آپ کے ماتھے پر سخت چوٹ آئی۔یہ بھی قدرت الہی ہے کہ آپ خاص اس جگہ پر گرے کہ جہاں پتھر تھے۔حالانکہ اس حصہ میں پھر صرف اسی جگہ پر تھے۔اور اگر نصف گز بھی ادھر ادھر کرتے تو چوٹ ہرگز نہ آتی۔