تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 335
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 327 قادیان میں متعد د پبلک عمارتوں کی تعمیر صاحب ہیں پھر مجھے سورۂ عصر الہام ہوئی۔اور میں نے اس کا مطلب یہ سمجھا کہ جو لوگ میاں صاحب کی گاڑی پر سوار ہوں گے وہی ایمان و عمل صالح رکھنے والے ہوں گے یہ خواب اور الہام سنانے کے بعد انہوں نے عہد کیا کہ میں آئندہ میاں صاحب کی مخالفت نہیں کروں گا۔1 یوپی میں مبلغین احمدیت کے کامیاب دورے مدرسہ الہیات" کانپور اور انجمن ہدایت الاسلام" اٹاوہ کے سالانہ جلسے منعقد ہو رہے تھے جن میں احمدی علماء کی شرکت کے لئے حضرت خلیفہ اول کی خدمت میں درخواست پہنچی بلکہ مدرسہ الہیات کی طرف سے خود آپ کو بھی تشریف لانے کی دعوت دی گئی آپ کا جانا تو مشکل تھا اس لئے اپنی طرف سے ۹/ اکتوبر ۱۹۱۰ ء کو یو پی میں ایک وفد بھجوا دیا۔جو حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب حضرت مفتی محمد صادق صاحب خواجہ کمال الدین صاحب اور مولوی صدر الدین صاحب پر مشتمل تھا وفد کانپور اور اٹاوہ کی کانفرنسوں میں کامیاب لیکچر دینے کے بعد لکھنو پہنچا جہاں دار العلوم ندوہ کے بانی مولانا شیلی سے بھی ملاقات ہوئی۔مولانا شیلی بڑے اخلاق سے پیش آئے اور دریافت کیا کہ کیا آپ لوگ مرزا صاحب مرحوم کو نبی مانتے ہیں؟ مفتی محمد صادق صاحب نے جواب دیا کہ ”ہمارا عقیدہ اس معاملہ میں دیگر مسلمانوں کی طرح ہے کہ آنحضرت ﷺ خاتم النسین ہیں آپ کے بعد کوئی دوسرا نبی آنے والا نہیں نہ نیا اور نہ پرانا۔ہاں مکالمات الہیہ کا سلسلہ برابر جاری ہے۔اور وہ بھی آنحضرت اللہ کے طفیل آپ کے فیض حاصل کر کے اس امت میں ایسے آدمی ہوتے رہے ہیں جن کو الہام الہی سے مشرف کیا گیا اور آئندہ بھی ہوتے رہیں گے۔چونکہ حضرت مرزا صاحب بھی الہام الہی سے مشرف ہوتے رہے اور الہام کے سلسلہ میں آپ کو خدا تعالٰی سے بہت سی آئندہ کی خبریں بھی بطور پیشگوئی کے بتلائی جاتی تھیں جو پوری ہوتی رہیں۔اس واسطے مرزا صاحب ایک پیشگوئی کرنے والے تھے اور اس کو عربی لغت میں نبی کہتے ہیں۔اور احادیث میں بھی آنے والے مسیح موعود کا نام نبی رکھا اس پر مولوی شیلی صاحب نے فرمایا کہ ” بے شک لغوی معنوں کے لحاظ سے یہ ہو سکتا ہے اور عربی لغت میں اس لفظ کے یہی معنے ہیں لیکن عوام اس مفہوم کو نہ پانے کے سبب گھبراتے ہیں اور اعتراض کرتے ہیں۔اس کے بعد جناب شیلی صاحب نے فرمایا۔کہ میں مدت سے ایک نہایت مشکل اور اہم مسئلہ کی فکر میں ہوں اور بالخصوص گذشتہ چھ ماہ سے بہت ہی فکر میں ہوں۔مگر کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کیا جاوے اگر ہم طلباء کو صرف عربی علوم پڑھاتے ہیں تو ان میں سے پرانی ستی اور کمزوری اور کم ہمتی نہیں جاتی جو آج کل کے مسلمانوں کے لاحق حال ہو رہی ہے۔اور اگر انہیں انگریزی علوم کا صرف ایک چھینٹا بھی دے دیا جائے تو اس کا یہ اثر ہو تا ہے کہ دین کو بالکل