تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 334 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 334

تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 326 قادیان میں متعد د پبلک عمارتوں کی تعمیر صاحب غلطیوں اور خطاؤں سے پاک اور معصوم ہیں۔آپ ان کی اس گفتگو سے حیران رہ گئے کہ دوبارہ بیعت کرنے کے باوجود ان لوگوں کے دل کدورت سے صاف نہیں ہوئے اور وہی پراپیگنڈا برابر کئے جارہے ہیں۔آپ نے ان کو بدلائل سمجھایا کہ اصل جانشین انجمن نہیں بلکہ خلیفہ وقت حضرت مولوی نور الدین صاحب ہیں نیز نصیحت کی کہ دوبارہ بیعت کے بعد فیصلہ حقہ کے خلاف کوئی بات دل میں بٹھا رکھنا جائز نہیں اب تو ادب و احترام کو ملحوظ رکھ کر اپنے عمد اطاعت و بیعت کو وفاداری سے نبھانا چاہیے۔آپ کے اس جواب سے وہ سب مایوس ہو گئے اور آپ کی مخالفت کے درپے ہو کر آپ کے لاہور سے نکلوانے کی تدبیریں سوچنے لگے۔دوسری طرف آپ نے بھی جماعت کے سامنے جمعہ کے خطبوں اور دوسری مجالس خطابت میں خلافت حقہ پر اور زیادہ زور دینا شروع کر دیا۔ایک دفعہ آپ خطبہ جمعہ میں خلافت کا ذکر کر رہے تھے کہ یہ حضرات بڑ بڑانے لگے اور ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب نے کہا کہ مولوی صاحب خدا کے لئے غلو چھوڑ دیں۔ایک خطبہ جمعہ سن کر ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب نے حضرت خلیفہ اول کی خدمت میں شکایت بھی کی کہ مولوی صاحب کے خطبوں سے پیر پرستی اور شرک پیدا ہونے کا ڈر ہے مگر یہ محض مغالطہ انگیزی تھی۔اس لئے حضرت خلیفہ اول نے ان کو یہ جواب دیا کہ جو درجہ حضرت صاحب کا مولوی راجیکی صاحب سمجھتے ہیں میں ان سے زیادہ سمجھتا ہوں۔علاوہ ازیں ۱۴ ستمبر ۱۹۱۲ء کو اپنے قلم سے آپ کو ایک خط ارسال فرمایا جس میں لکھا: السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ۔اللہ تعالٰی آپ کا حافظ و ناصر ہو۔میں آپ سے بالکل خوش ہوں۔نورالدین ۴/ ستمبر ۱۹۱۲ء "۔ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب کو خواجہ کمال الدین صاحب کے اثر کی وجہ سے یہ وسوسہ پیدا ہو گیا تھا کہ میاں محمود احمد صاحب نے جو ادھر ادھر جماعتوں میں جانا شروع کر دیا ہے تو وہ چاہتے ہیں کہ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد آپ کے گدی نشین بنیں یہ خیال بڑھتے بڑھتے ان کے دل پر یہاں تک چھا گیا کہ انہوں نے مفروضہ پیر پرستی اور گدی نشینی کی تردید میں ایک رسالہ " طریق فلاح" بھی لکھ مارا۔جس میں انہوں نے خلافت حقہ کو گدی قرار دے کر اپنے باغیانہ خیالات و عقائد کا اظہار کیا تھا اس کے بعد ایک دفعہ انہیں اپنی زمینوں کی دیکھ بھال کے لئے ریاست بہاولپور جانا پڑا واپس آکر انہوں نے مولانا راجیکی صاحب کو بتایا کہ سفر میں مجھے بہت ہی منذر خواہیں آئی ہیں اور بار بار سرزنش ہوئی ہے کہ میاں صاحب کی مخالفت نہ کروں۔چنانچہ یہ خواب بھی سنایا کہ میں نے دیکھا کہ ایک گاڑی اپنی لائن پر نہایت سرعت اور عمدگی سے چلی جارہی ہے مجھے بتایا گیا کہ اس کے ڈرائیور میاں محمود احمد