تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 329 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 329

تاریخ احمدیت جلد ۳ 321 قادیان میں متعد د پبلک عمارتوں کی تعمیر اپنے خرچ پر دو احمدیوں کو حج پر بھجوانے کی خواہش حضرت امیر المومنین خلیفہ اول نے وسط جولائی ۱۹۱۰ ء میں اس خواہش کا اظہار فرمایا کہ "ہم دو احمدیوں کو اپنے خرچ پر حج کے لئے بھیجنا چاہتے ہیں۔جو زاد راہ سے معذور اور حج کی تڑپ رکھنے والے صالح الاعمال متقی ہوں ایک ان میں سے پہلے حج کر چکے ہوں۔جولائی ۱۹۱۰ء کے آخری ہفتہ میں حضرت خلیفہ اول نے سفر ملتان اختیار فرمایا۔جو خلیفہ بننے سفرملتان کے بعد آپ کا پہلا سفر تھا اس سفر کی وجہ یہ ہوئی کہ ملتان کا ایک سپاہی محمد تراب خاں نامی جس کے دماغ میں خلل تھا۔چھ ماہ قبل قادیان آیا اور آپ کے زیر علاج رہا۔یہ شخص قادیان سے ملتان OT گیا اور اقدام قتل کے الزام میں گرفتار ہو گیا۔جس پر آپ کو ملتان شہادت کے لئے طلب کیا گیا۔حضرت خلیفہ اول حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کو امیر مقامی مقرر کر کے ۲۴ جولائی ۱۹۱ء کو ۴ بجے بذریعہ ٹانگہ قادیان سے بٹالہ کے لئے روانہ ہوئے۔آپ کے ہمراہ مولوی محمد علی صاحب میاں عبدالحی صاحب حضرت مفتی محمد صادق صاحب حکیم محمد عمر صاحب اور بعض دوسرے خدام بھی تھے۔نہر تک پہنچے تو حکیم محمد عمر صاحب نے عرض کی کہ ضرور ہم اتنی دیر میں بٹالہ پہنچ جائیں گے حضرت نے فرمایا کہ ایسا دعویٰ نہیں چاہئے۔نتیجہ یہ ہوا کہ حضور اور باقی خدام تو بر وقت بٹالہ اسٹیشن پر پہنچ کر ریل میں سوار ہو کر لاہور چلے گئے مگر جس ٹانگہ میں حکیم صاحب تھے وہ پیچھے رہ گیا اور ریل چلی گئی۔اور آخر دوسرے دن ایک بجے کے قریب لا ہو ر پہنچے معلوم ہوا حضرت خلیفہ اول شیخ رحمت اللہ صاحب انگلش دیر ہاؤس کے ہاں کھانے کے لئے تشریف لے گئے ہیں چنانچہ سیدھے وہاں پہنچے۔حضور نے حکیم صاحب سے فرمایا۔دیکھو آپ نے دعوی کیا تھا۔کہ ضرور پہنچ جائیں گے حکیم صاحب نے عرض کی پرانی عادتیں ہیں کوشش تو کر رہا ہوں کہ ایسے کلمات منہ سے نہ نکلیں۔خدا کا شکر ہے کہ تنبیہہ بھی ہو جاتی ہے۔کھانا کھانے کے بعد انہی کے مکان پر نماز ظہر پڑھی گئی۔پھر حضرت خلیفہ اول شیخ صاحب کی درخواست پر ان کی دکان واقع انار کلی میں تشریف لے گئے اور سب کمروں میں اپنے قدم مبارک سے برکت بخشی۔شیخ رحمت اللہ صاحب کی دکان سے ہو کر حضرت خلیفہ اول خواجہ کمال الدین صاحب کے مکان (واقع کیلیانوالی سڑک پر تشریف لے گئے اور نماز عصر ادا فرمائی یہاں بعض لوگوں نے بیعت کی۔نو کو آپ نے نصیحت فرمائی کہ غفلت کی صحبت سے بچتے رہو اور اگر کوئی مجبوری پیش آوے تو استغفار بہت کرو۔ایک شخص نے عرض کی کہ میری اولاد کچھ پاگل اور کچھ نالائق ہے۔فرمایا خیرات اور مبایعین