تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 328 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 328

تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 320 قادیان میں متعدد پبلک عمارتوں کی تعمیر والے طلبہ کے لئے ایک تربیتی کلاس کا اجراء فرمایا۔کلاس کے نصاب میں قرآن وحدیث اور بعض قصائد شامل تھے۔آپ نے ان کو بڑی محنت سے پڑھایا۔اور عربی ودینی علوم سے متعارف کیا۔حضرت مسیح موعود کے تیسرے پوتے کی ولادت 14 جون ۱۹۱۰ء کو حضرت مرزا / بشیر احمد صاحب کے مشکوئے معلی میں مرزا حمید احمد پیدا ہوئے۔جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تیسرے ہوتے ہیں۔مله امه یہ تعلیم الاسلام کے لئے وظائف تعلیم الاسلام کے یتامی و مساکین کے وظائف کی مد میں چونکہ گنجائش کم تھی اس لئے اس سال حضرت خلیفہ اول نے اپنی جیب خاص سے سو روپے عطا فرمائے یہ جون ۱۹۱۰ ء کی بات ہے۔حضرت سیدہ امتہ الحی صاحبہ کی آمین اس ماہ کے آخر میں حضرت سیدہ امتہ الٹی صاحبہ صاحبزادی حضرت خلیفہ اول) نے قرآن مجید ختم کیا۔اس مبارک تقریب پر حضرت اماں جی نے مدرسہ کی استانیوں کو انعام و اکرام سے نوازا اور مدرستہ البنات کی بچیوں کو دعوت دی اور شیرینی تقسیم کی۔مباحثہ کھارا قادیان کے نزدیک ایک گاؤں کھارا ہے جس میں وسط ۱۹۱۰ء میں ایک مباحثہ ہوا جس میں مرکز سے حضرت حافظ روشن علی صاحب (امیر) مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب اور سید عبدالحی صاحب عرب شامل ہوئے۔احمدیوں کی طرف سے حضرت حافظ صاحب نے بحث کی اور مبحث حیات وفات مسیح تھا۔مولوی نواب دین صاحب حضرت حافظ صاحب کے دلائل کی تاب نہ لا کر جوابی تقریر سننے سے پہلے ہی روانہ ہو گئے۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے وسط ۱۹۱۰ ء میں پشاور کا سفر اختیار فرمایا۔اس سفر پشاور سفر کی یادگار آپ کی ایک تصویر ہے جس میں آپ کے ساتھ حضرت قاضی محمد یوسف صاحب مرحوم امیر ہوتی مردان حضرت مولانا غلام حسن خان صاحب کے صاحبزادگان (عبد الرحیم جان صاحب اور عبداللہ جان صاحب) اور گل محمد خان صاحب وکیل بھی موجود ہیں۔(اس یادگاری فوٹو میں سے آپ کی تصویر سامنے ملاحظہ ہو)۔۱۹۱۰ء کے بعد آپ دسمبر ۱۹۱۳ء میں بھی پشاور تشریف لے گئے۔اور اپنے اہل بیت کو لے کر سالانہ جلسہ پر پہنچ گئے۔