تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 323 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 323

تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 315 قادیان میں متعد د پبلک عمارت کی تعمیر یه نظاره نهایت ایمان افروز تھا کہ خدا کے مسیح کا مقدس خلیفہ مسجد اقصیٰ کی تعمیر نو کے لئے اپنے ہاتھ سے ٹوکریاں اٹھ رہا تھا اور احمدیت کے سپاہی اپنے بوڑھے مگر جواں ہمت آسمانی جرنیل کی قیادت میں پروانہ دار کام کر رہے تھے۔نماز جمعہ میں مستورات کی پہلی بار شمولیت مسجد اقصیٰ چونکہ تنگ تھی اس لئے احمدی مستورات ابھی تک جمعہ میں حاضر ہو کر خطبہ نہیں سن سکتی تھیں۔ہاں روزانہ نمازیں بیت الفکر میں جماعت کے ساتھ ادا کرتی تھیں۔مگر اب جو مسجد اقصیٰ کی توسیع کا کام شروع ہوا تو احمد کی خواتین کو جمعہ میں شامل ہونے کی سعادت نصیب ہونے لگی۔چنانچہ ۲۱ جنوری ۱۹۱۰ ء کے جمعہ میں احمدی مستورات نے جن میں حضرت ام المومنین بھی شامل تھیں۔مسجد اقصیٰ میں سب سے پچھلی صف میں نماز پڑھی اور خطبہ سنا۔اس طرح خلافت اولی میں ایک سنت نبوی کا احیاء ہوا۔حضرت خلیفہ اول کا ایک خط سیکرٹری مدرسہ الہیات کے نام کان پور میں ایک نیا " مدرسه الیات قائم ہوا جس کی غرض اشاعت و حفاظت اسلام تھی۔حضرت خلیفہ اول کو چونکہ ایسی انجمنوں سے شروع ہی سے گہری دلچسپی رہی تھی۔اس لئے آپ نے مدرسہ کے سیکرٹری مولوی احمد اللہ صاحب کو نصاب کے بارے میں عمدہ مشورے دیئے اور ایک معقول رقم اشاعت اسلام کے لئے بھجوائی۔اس ضمن میں آپ نے ادا ئل 1910ء میں ایک مفصل خط بھی لکھا جس میں عہد حاضر کے مشہور متکلمین اسلام اور ان کے پیدا کردہ لٹریچر کا تذکرہ فرمایا اور ان کو خط کے آخر میں نصیحت فرمائی۔”جو لوگ دعاؤں کے قائل نہیں اور متقی نہیں اور اخلاص اور صواب ان کے مد نظر نہیں وہ کیا مفید ہو سکتے ہیں ؟ ان تتقوا الله يجعل لكم فرقانا "۔"الانذار" ان دنوں خدا کے قتری نشان پے در پے ظاہر ہو رہے تھے۔ایران یونان ، وسط ایشیا اٹلی ، سلی اور امریکہ کے پے در پے زلازل حیدر آباد اور پیرس کے تباہ کن سیلاب نے ہر طرف ایک قیامت بپا کر رکھی تھی۔حضرت خلیفہ اول نے اپنے مقتداء و پیشوا کی طرح الانذار " ہی کے نام سے ایک اعلان شائع فرمایا۔جس میں لوگوں کو نصیحت کی کہ وہ تکبر اور شوخی سے باز آئیں اور نیکی کی طرف قدم بڑھا ئیں۔اور خدا کے مقدس بندوں کے خلاف بد زبانی چھوڑ دیں۔