تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 320 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 320

تاریخ احمدیت۔جلد ۳ قادیان میں متعد د پبلک عمارتوں کی تعمیر ٹوٹ جائے گا" درس ختم کرنے کے بعد آپ نے بہت لمبی دعا فرمائی۔مسجد نور پر پانچ ہزار روپیہ کے قریب صرف ہوا جس میں سے اڑھائی ہزار روپیہ حضرت میر ناصر نواب صاحب نے جماعتوں میں گھوم کر بطور چندہ وصول کیا اور بقیہ اڑھائی ہزار ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب کی ہمشیرہ کی ایک وصیت سے آگیا۔1 مسجد کی تکمیل کے بعد فضل حق صاحب مختار خلیفہ صاحب ریاست پٹیالہ نے اگست ۱۹۱۰ء میں تین سورد پیہ اس کے فرش کے لئے اور پچاس روپے کی رقم نکا لگوانے کے لئے بھجوائی۔اور یکم نومبر ۱۹۱۰ ء سے اس کے لئے ایک مستقل خادم مقرر ہوا۔۱۳۵-۱۹۱۲ ء میں اس کا وسیع صحن تیار کرایا گیا۔اور جلسہ سالانہ میں منعقد ہونے لگا۔-۲ بورڈنگ تعلیم الاسلام ہائی سکول اسی سال بورڈنگ تعلیم الاسلام ہائی سکول کی عالی شان اور وسیع عمارت کی بنیاد رکھی گئی جس کے تین پہلو ستمبر ۱۹۱۰ ء تک مکمل ہوئے اور باقی بعد میں چند ماہ تک مکمل ہو گئے۔جس میں قریباً دو سو بور ڈروں کی گنجائش تھی اس بورڈنگ ہاؤس میں رہائشی کمروں کے علاوہ کھانا کھانے اور پڑھائی کرنے کے لئے ایک وسیع ہال بھی تھا۔بورڈنگ ہاؤس اور اس سے متعلقہ عمارات پر جو اخراجات ہوئے اس میں عام چندہ کے علاوہ ساڑھے چار ہزار روپیہ حکیم فضل الدین صاحب بھیروی کی موہو بہ حویلی اور زمین سے حاصل ہوئے جو حکیم سید زمان شاہ صاحب کو فروخت کی گئی۔اور جس پر بہت کچھ ہنگامہ آرائی ہو چکی تھی۔۳۔تعلیم الاسلام ہائی سکول اس عالی شان عمارت کی تجویز تو بورڈنگ ہاؤس کے ساتھ ہی ہو چکی تھی مگر اس کی بنیاد حضرت خلیفتہ المسیح اول نے معیت صاحبزادگان حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۵/ جولائی ۱۹۱۲ء کو رکھی آپ نے تین جگہ بنیادی اینٹیں رکھیں مشرقی کونے پر مغربی کونے پر اور درمیانی ہاں کے مشرقی کونے پر حضرت خلیفتہ المسیح اول پہلے خود اینٹ پر دعا کر کے اسے بنیاد پر رکھتے پھر تین اینٹیں صاحبزادگان (حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب، حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب) سے رکھواتے۔اول و آخر بہت دعا کی اس طرح چھ بار دعا کی گئی۔اکبر شاہ خاں صاحب نجیب آبادی اینٹیں حضرت کو پکڑاتے تھے۔بنیاد رکھنے کے بعد آپ نے دعا فرمائی کہ اس مدرسہ سے متقی اور صالح بچے دنیا میں پھیلیں۔دعا کے بعد آپ نے بورڈنگ ہاؤس کے چند کمرے دیکھے اور گاڑی پر واپس تشریف لے گئے۔؟