تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 319
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ تیسرا باب 311 قادیان میں متعدد پبلک عمارتوں کی تعمیر قادیان میں متعدد پبلک عمارتوں کی تعمیر (جنوری ۱۹۱۰ ء سے دسمبر ۱۹۱۰ء تک بمطابق ذی الحجہ ۱۳۲۷ھ تا محرم ۱۳۲۸ھ ) محلہ دار العلوم قادیان کی بڑھتی ہوئی آبادی اور مدرسہ تعلیم الاسلام جیسے اہم ادارے کی عمارتی مشکلات کی وجہ سے ضرورت تھی کہ قادیان کی پرانی آبادی سے باہر جدید محلہ آباد کر کے اس میں اس ادارہ کے شایان شان عمارت تعمیر کی جائے۔چنانچہ قادیان کے شمالی جانب ایک نیا محلہ آباد کرنا شروع کیا گیا۔اس محلہ کو ابتداء " بھٹہ یا چھاؤنی " کہا جاتا تھا۔مگر بالا خر حضرت خلیفہ اول نے اس کا نام دار العلوم تجویز فرمایا - I جہاں خلافت اولی کے زمانہ میں متعدد عالی شان عمارتیں تعمیر ہوئیں۔ا۔مسجد نور دار العلوم کی آبادی کا آغاز مسجد نور سے ہوا۔جس کی بنیاد حضرت خلیفہ اول نے ۵/ مارچ ۱۹۱۰ء کو بعد نماز فجر اپنے دست مبارک سے رکھی اس موقعہ پر احمدیوں کی ایک کثیر تعداد موجود تھی۔حضرت خلیفہ اول نے اکبر شاہ خان نجیب آبادی کے ہاتھ سے پہلی اینٹ لے کر اپنے ہاتھ سے گارا لگا کر متضرعانہ دعاؤں کے ساتھ رکھی اور اینٹوں کے ایک ڈھیر پر بیٹھ کر عمارتوں اور مسجدوں کے حقیقی فلسفہ پر ایک پر معارف تقریر فرمائی۔۲۳ / اپریل ۱۹۱۰ ء کو جبکہ مسجد کا ایک کمرہ تیار ہو چکا تھا آپ نے نماز عصر پڑھا کر اس کا افتتاح فرمایا۔اور اس کے بعد سورۃ انبیاء کے چھٹے رکوع کا درس قرآن بھی دیا۔جس میں بتایا کہ آج اللہ تعالٰی نے دعا کے لئے ایسے ایسے الفاظ اور طریق بتائے ہیں کہ میں حیران تھا اور ایسی دعا ئیں جو میرے وہم میں بھی نہ تھیں۔نیز حلفا فرمایا کہ میں نے اس مسجد کی بنیاد اللہ کی رضا کے لئے رکھی ہے اور تقویٰ پر رکھی ہے اور جس مسجد کی بنیاد اللہ کی رضا پر ہو وہ بڑی پکی مسجد ہوتی ہے۔اسی دوران میں نہایت جلال سے یہ بھی فرمایا۔”میں خدا کے فضل سے یقین رکھتا ہوں کہ میری چٹان سے جو سرمارے گا اس کا سمر