تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 315
تاریخ احمدیت جلد ۳ ۱۵۷ رجسٹر صد را مجمن احمد یہ نمبرے صفحہ ۱۲۰ ۱۵۸۔رپورٹ صد را مجمن احمدیہ سیف ۱۹۹۳ء صفحہ ۳۷۔307 ختنہ انکار خلافت کا تفصیلی پس منظر ۱۵۹۔خواجہ صاحب کا مضمون یہ تھا:۔گزشتہ تین سال سے ہمارے دوستوں نے حضرت قبلہ مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے۔ایل ایل بی ایڈیٹر رسالہ ریویو آف ریلیجر قادیان پنجاب کی خدمت کو رسالہ مذکور کی ایڈیٹری سے سبکدوش کر کے قرآن شریف کے ترجمہ انگریزی کے لئے خاص کر دیا تھا۔مولانا موصوف کی اس اہم کام کے لئے اہلیت ہندوستان میں ایک امر مسلم ہے ان کو عربی اور انگریزی دونوں زبانوں میں ید طولی حاصل ہے ان کی قلم کا لوہا زمانہ مان چکا ہے ۱۹۰۱ء سے ۱۹۱۰ء تک وہ انگریزی زبان میں اسلامی لٹریچر اور قرآنی حقائق شائع فرماتے رہے تب انہوں نے ترجمہ شروع کیا جو اب بفضلہ مکمل ہو چکا ہے اب مولانا موصوف ترجمہ قرآن کا مقدمہ لکھ رہے ہیں جن میں ان تمام اوہام و اعتراضات کا ازالہ ہو گا جو سیل اور دیگر مترجمین نے اپنے ترجمہ میں کئے ہیں الغرض چند ماہ میں قرآن مجید بغرض طبع تیار ہو جائے گا۔ہمارا ارادہ ہے کہ قرآن مع متن انگلستان میں چھپے ایسے نادر صحیفہ کو ہندوستان میں چھاپ کر اہل مغرب کے آگے پیش کرنا گویا اہل مغرب کو یہ کہتا ہے کہ یہ کتاب تمہارے پڑھنے کے قابل نہیں۔ضروری ہے کہ مولانا موصوف خود یہاں آکر اپنی نگرانی میں ترجمہ چھپوائیں۔ان کا یہاں آنا میرے سفر ا مریکہ میں بہت آسانیاں پیدا کر دے گا۔ہماری جماعت کے اور بھی اہم اسلامی فرائض ہیں۔جو اس قابل نہیں چھوڑتے کہ ہم ترجمہ قرآن مجید کے چھپوانے کا انتظام فی الفور کر سکیں۔اس لئے میں کل بر اور ان اسلام کی خدمت میں اپیل کرتا ہوں کہ مشکل حصہ کام کا ہم نے ختم کر لیا ہے۔اب اس کو چھپنا اور اس کی اشاعت باقی ہے۔وہ وہ کریں۔ہم چاہتے ہیں کہ ترجمہ قرآن مجید کی کئی ہزار کا پیاں مفت بطور تحفہ اور کہیں برائے نام قیمت پر مغربی دنیا میں تقسیم ہو جائیں۔اور پھر اس امر کو خدا پر چھوڑ دیا جائے۔میں نے اپنے دوستوں کو لاہور میں لکھا ہے کہ وہ انطباع ترجمہ قرآن کریم کی ایک باضابطہ کمیٹی بنا کر اعلان کریں۔کل امدادی روپیہ کا حساب کتاب با ضابطہ اخبار پیغام صلح لاہور میں شائع ہو گا۔یہ روپیہ محض اور خالصتہ ترجمہ قرآن مجید پر خرچ ہو گا۔اور اس امر کی کفیل ہم چار خادمان اسلام کی غیر منقولہ جائداد ہو گی۔یعنی راقم الحروف و شیخ رحمت اللہ مالک انگلش ویر ہاؤس۔ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ پروفیسر میڈیکل کالج ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ اسٹنٹ کیمیکل ایگزامینر گورنمنٹ پنجاب " (پیغام صلح ۲۳/ اکتوبر 1913ء صفحہ سو کالم (۳) ۱۲۰۔چنانچہ صدر انجمن احمدیہ کے ریکارڈ میں لکھا ہے۔اطلاع مولوی محمد علی صاحب افسر اشاعت کہ میں چھ ماہ کی رخصت پر جاتا ہوں میری غیر حاضری میں افسر اشاعت کا مناسب انتظام کیا جائے۔سر دست مولوی شیر علی صاحب کو چارج دلایا جائے مولوی محمد علی صاحب ترجمہ القرآن کے کام کے لئے یہ امید منظوری مجلس ضروری کتب دفتر میگزین لے گئے ہیں۔(رجسٹر نمبرے صفحہ ۲۲۶) ۱۲ رجر صدر انجمن احمد یہ نمبرے صفحہ ۲۸۹ - ۲۹۰ ۱۶۲۔رجسٹر صد را انجمن احمد یہ نمبرے صفحہ ۲۸۹ - ۲۹۰۔۱۷۳ - پیغام صلح ۱۷ دسمبر ۱۹۳۸ء جوبلی نمبر صفحہ ۳۲ کالم ۲ ۱۷۴ پیغام صلح ۱۷ار دسمبر ۱۹۳۸ء جوبلی نمبر صفحہ ۳۲ کالم ۲ ۱۷۵۔مجاہد کبیر صفحہ ۱۹۴۔یہاں یہ بتانار چسپی سے خالی نہ ہو گا کہ خواجہ صاحب ہی نے ترجمہ انگریزی کی اشاعت سے قبل لکھا کہ ہم اس کو ذریعہ کمائی بنانا ایک لعنت سمجھتے ہیں۔(ٹریکٹ احمدی جماعت میں مقدمات۔صفحہ ۶) ۱۲۶۔مجاہد کبیر صفحه ۱۹۶۔۱۲۷۔مجاہد کبیر صفحه ۱۹۸ ۱۲۸۔ٹرسٹ کے عمل مسودہ کے لئے ملاحظہ ہو۔الفضل ۳۹/ جنوری ۱۹۵۱ء صفحہ ۲-۵/اکتوبر ۱۹۵۷ء صفحہ ۴۔۱۲۹۔یہ وی " انجمن " ہے جسے مولوی صاحب " خدا کے مقرر کردہ خلیفہ کا جانشین " قرار دے کر پوری جماعت کا حاکم کہا کرتے تھے۔۱۷۰۔خط بیگم صاحبہ مولوی محمد علی صاحب صفحہ ۴ ( بحوالہ رسالہ میاں محمد صاحب کی کھلی چھٹی کے جواب کا تمہ از نظارت اصلاح و از شاد) ۱۷۱۔مجاہد کبیر میں (ص ۷۶ تا ۸۱) پیغام صلح کے بعض اقتباسات پیش کر کے یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ مولوی محمد علی