تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 316 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 316

تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 308 فتنہ انکار خلافت کا تفصیلی پس منظر صاحب کے موجودہ ترجمہ قرآن کے باعث حضرت خلیفہ اول نے بہت خوشی کا اظہار کیا۔اول تو پیغام صبح کے اقتباسات جوان کے اکابر کا ہمنوا اخبار تھا ہمارے لئے حجت نہیں۔دوم۔اس میں حقائق کو غلط رنگ میں پیش کیا گیا ہے مثلا لکھا ہے کہ حضرت خلیفہ اول نے مولوی محمد علی صاحب کو فرمایا کہ "مجھ کو بڑا پیارا ہے۔حالانکہ پیغام صلح ۳ / مارچ ۱۹۱۴ء صفحہ ا کالم ۲ سے ثابت ہے کہ آپ نے مولوی صاحب کو نہیں خدا تعالی کو پیارا کہا تھا۔مگر مولفان مجاہد کبیر نے مولوی محمد علی صاحب کی عقیدت میں غلو کر کے یہ کلمات جو خدا کے لئے کئے گئے تھے۔مولوی محمد علی صاحب کی طرف منسوب کر دئے۔اگر حضرت خلیفہ اول نے خوشنودی کا اظہار کیا تو یقینا موجودہ ترجمہ القرآن پر نہیں کیا۔کیونکہ خود پیغام صلح کی اپنی شہادت کے مطابق اس کے اصل مسودہ میں جو آپ کو سنایا جاتا تھا بعد میں ردو بدل کر دیا گیا ہے۔اس کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ ایک موقع پر جبکہ انگریزی ترجمہ ہو رہا تھاتو میر ناصر نواب صاحب نے ایک اردو ترجمہ کی بنیاد ڈالنی چاہی اور اس کے لئے کچھ چندہ بھی جمع کر لیا۔مگر مولانا نور الدین صاحب نے ان کو روک دیا اور کہا کہ ہماری جماعت کی طرف سے اردو ترجمہ بھی وہی چھپے گا جو محمد علی انگریزی ترجمہ کے بعد کرے گا۔(ص۸۰) حالا نکہ یہ بالکل خلاف واقعہ ہے۔واقعہ یہ ہے کہ حضرت خلیفہ اول نے نہ صرف روکا نہیں بلکہ اپنے قلم سے میر صاحب کی تحریک ترجمہ پر لکھا۔یہ مبارک تحریک ہے اللہ تعالی اس کو مثمر ثمرات بابرکات کرے آمین خاکسار انشاء الله بقدر طاقت امداد کو حاضر ہے مولوی محمد علی صاحب نے جو ترجمہ کیا اس کے دو پارے میں نے بغور دیکھتے ہیں عمدہ ہیں اور پہلا پارہ مطبوع قدرے اصلاح طلب ہے و السلام نور الدین۔" (بدر ۱۸ ستمبر ۱۹۱۳ و صفحه ۴ کالم ۱) پس حضرت ظیفہ اول نے قطعا حضرت میر ناصر نواب صاحب کو اردو ترجمہ قرآن سے منع نہیں فرمایا البتہ بدر ۱۳-۲ نومبر ۱۹۱۳ء سے یہ ضرور پتہ چلتا ہے۔کہ جب خواجہ کمال الدین صاحب نے بدر میں حضرت میر صاحب کی تحریک اور اس پر حضرت خلیفہ اول کا اپنے قلم کا نوٹ پڑھا تو انہوں نے حضرت میر صاحب کی خدمت میں ایک درخواست کی اور لکھا کہ اردو ترجمہ قرآن کی واقعی ضرورت ہے مگریہ ترجمہ انگریزی ترجمہ کے ساتھ ہو جائے گا۔اور یہ دونوں کام یک ماں مولانا محمد علی کرسکتے ہیں۔یہ جماعت پر اور آپ پر روشن ہے کہ اس انگریزی ترجمہ کے لئے قوم کا بہت سانتیمتی وقت اور روپیہ خرچ ہو چکا ہے۔یہ اب قریبا تکمیل کو پہنچ گیا ہے۔آپ انگریزی اور اردو دونوں تراجم کے لئے بغرض چندہ گھر سے نکلیں اور ایک ہی فنڈ قائم کریں تقسیم فنڈ کی ضرورت نہیں۔ہم سب ایک ہی ہیں اور ہم سب کا کام اور غرض ایک ہی ہے۔" اس مقام پر ایک خطر نمی کا ازالہ بھی ضروری ہے اور وہ یہ کہ مدت سے یہ کہا جارہا ہے کہ یہ ترجمہ مکمل ہو گیا اور حکیم نور الدین ی بیٹی کو اس کی قبولیت کی اطلاع خداتعالی کے حضور سے بھی آگئی۔" (پیغام صلح امیر نمبر صفحہ ۳۸) مجاہد کبیر میں مزید بتایا گیا ہے کہ حضرت کو یہ قبولیت کی اطلاع " الہام میں ہوئی تھی۔چنانچہ لکھا ہے ۱۴ مارچ کو حضرت صاحب نے فرمایا ہمارا انگریزی ترجمہ اللہ کو مقبول ہو گیا ہے الہاما بشارت آگئی ہے۔(مجاہد کبیر صفحہ (۸) حق یہ ہے کہ حضرت خلیفہ اول کو ترجمہ قرآن کے بارے میں نہ الہام ہوا نہ بشارت ہوئی البتہ میر عابد علی صاحب سیالکوٹی نے اپنا الہام ضرور سنایا کہ حضرت خلیفتہ المسیح کو ختم قرآن مبارک ہو مگر حضرت خلیفہ اول نے اس الہام کی تشریح یہ فرمائی کہ شاید مولوی محمد علی صاحب کا قرآن مراد ہو یا میاں عبدالحی ک قرآنا اچنانچہ پیغام صلح میں ہی لکھا ہے۔کل ہی کا واقعہ ہے کہ حضرت سید عابد علی شاہ صاحب جو حضرت مسیح موعود کے بہت ہی پر انے اور مخلص اصحاب احباب میں سے ہیں آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ الہام ہوا ہے کہ حضرت خلیفتہ الصحیح کو ختم قرآن مبارک آپ نے یہ سنتے ہی دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے پھر فرمایا شاید مولوی محمد علی والا قرآن مراد ہو۔پھر فرمایا عبد الحی نے بھی دینی علوم کے کل مہاری علوم ختم کر لئے ہیں یہ بھی بڑی خوشخبری ہے۔" (پیغام صلح ضمیمہ ۵ / مارچ ۱۹۱۴ء صفحه ۴) ۱۷۲۔تفصیل خلافت عثمانیہ کے حالات میں آئے گی۔شیخ محمد طفیل صاحب ایم۔اے مبلغ انجمن اشاعت اسلام لاہور رکھتے ہیں ” قادیانی جماعت کی طرف سے کوئی درجن بھر مبلغ انگلستان روانہ ہوئے اور وہاں کچھ عرصہ قیام کے بعد یورپ کے مختلف ممالک میں پھیل گئے۔اس وقت مغربی دنیا میں ان کے مبلغ جرمنی ، چین اور سوئٹر رینڈ میں کام کر رہے ہیں سب ہی پڑھے لکھے مخلص تو جوان ہیں۔خیر قادیانی جماعت کے پاس کارکنوں کی تو پہلے ہی کی نہیں تھی۔لیکن ان کے پاس مغربی زبانوں میں کوئی خاص