تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 311 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 311

تاریخ احمدیت جلد ۳ 303 مدرسہ احمدیہ کے سنگ بنیاد سے تمکین خلافت کے نشان تک سے کام لیا گیا ہے۔قرآنی نظریہ کے مطابق ایمان بتدریج ترقی کرتا رہتا ہے۔پس جو لوگ صرف لا اله الا الله کہتے ہیں اور دل سے مانتے ہیں وہ ایک حد تک مسلمان ہیں اور جو لوگ اس کے ساتھ پابند نماز بھی ہیں وہ پہلوں سے بڑھ کر مسلمان ہیں اور جو ز کوۃ روزہ حج کو بھی ادا کرتے ہیں وہ اور زیادہ پختہ مسلمان ہیں۔علیٰ ہذا القیاس۔سب مساوی الایمان نہیں اور ہر گز نہیں۔تمکین خلافت کے نشان کا ظہور ایڈیٹر حکم شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی نے اس سال کے واقعات کا جائزہ لیتے ہوئے لکھا۔" سال کے شروع میں خلافت حقہ کے اختیارات کے متعلق ایک بحث اٹھی جس میں صدرانجمن اور خلافت کے تعلقات اور اختیارات پر چند سوالات کئے گئے تھے۔یہ خطرناک فتنہ اور ابتلا تھا۔جماعت کی تمحیص کے لئے سلسلہ کے درد آشنا دل پہلو میں رکھنے والے اس ابتلاء کو ایک طرف دیکھتے تھے اور دشمنوں کی پیشگوئیاں اور تک بازیاں دوسری طرف جو یہ کہتے تھے کہ ایک سال ہی کے اندر یہ سلسلہ ختم ہو جائے گا اور خیال کیا جاتا تھا کہ اس ابتلا پر خاک بدہن دشمن سلسلہ کے دو فریق ہو جائیں گے مگر سلسلہ کی عظمت اور شوکت اور بھی بڑھ گئی جب اللہ تعالٰی نے محض اپنے فضل سے تمکین خلافت کی پیشگوئی کو پورا کر دیا۔جیسا کہ آیت استخلاف میں درج ہے کہ خوف کو امن سے بدل دیں گے اس سلطنت پر امن میں سلسلہ حقہ کی خلافت پر کوئی ایسا زمانہ نہیں آسکتا تھا۔جو خوف و خطر کا اس رنگ میں ہو جو صدیقی خلافت پر آیا۔اس کے لئے یہی ایک خطرناک زمانہ تھا کہ خدانخواستہ شیرازہ قوم میں کوئی جنبش پیدا ہو۔خوف آیا اور سخت آیا۔مگر اللہ تعالٰی نے اس کو امن سے بدل دیا جیسا کہ اس کا وعدہ تھا۔چونکہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ایک تیارہ شدہ قوم حضرت مسیح موعود و مغفور نے چھوڑی تھی اور اس کی سرپرستی اللہ تعالیٰ نے ایسے ہاتھ کے ذریعہ کی جو حضرت مغفور سے صدیقی تعلق رکھتا تھا۔اس لئے سب نے اس خطرناک موقعہ پر اپنی اطاعت اور وفاداری کا ثبوت دیا اور خلافت حقہ کو (جیسا کہ پہلے سے اپنے لئے مطاع اور امام یقین کرتے تھے ) اپنا مطاع اور امام تسلیم کیا۔اس ابتلا کے وقت کسی نے حضرت امام سے پوچھا کہ آپ اس کا نتیجہ کیا تنزل سمجھتے ہیں یا ترقی؟ فرمایا یہ ترقی کا موجب ہے چنانچہ جماعت کا ایمان بڑھا۔جیسا کہ حق کے مقابلہ کے لئے باطل حد اندازی کرتا ہے۔پھر بھی ایک دو مرتبہ اس باطل نے سر نکالنا چاہا۔مگر بالا خر خدا تعالیٰ نے پوری شوکت اور قوت کے ساتھ تمکین خلافت کا نشان بھی ہم سب کو دکھا دیا۔غرض صدیقی خلافت کا زبر دست نشان بھی اسی سال میں پورا ہوا"۔