تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 299
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 291 مدرسہ احمدیہ کے سنگ بنیاد سے تسکین خلافت کے نشان تک ہوئے مسودہ ترجمہ کے علاوہ دفتر کا ٹائپ رائٹر اور میگزین کی تمام ضروری کتب بھی ترجمہ کے بہانے ساتھ لے گئے۔جس پر سیکرٹری صدر انجمن قاریان نے ۲۲ جون ۱۹۱۴ء کو ریزولیوشن پاس کر کے ان کی خدمت میں لکھا کہ وہ ترجمہ انگریزی کے تمام مسودات اور نقول اور میگزین کی لائبریری کی کتب اور دیگر سامان مملوکہ انجمن جو ان کے پاس ہے پندرہ دن کے اندراندر واپس کر دیں۔اس مطالبہ پر مولوی محمد علی صاحب نے جو جواب دیا دہ زمانہ حال کے مفسر قرآن کی دیانت وامانت و تقوی شعاری کا پردہ چاک کرنے کے لئے کافی تھا۔چنانچہ انہوں نے لکھا:۔" جناب سیکرٹری صاحب السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔آپ کا خط نمبر ۲۲۲ مورخہ ۲۲/جون ۱۹۱۴ء مجھے ۲۵/ جون کو ملا۔میرا جواب مختصر احسب ذیل ہے:۔ا۔میں موجودہ انجمن کے نظام اور اس کی تمام کارروائی کو خلاف قانون سمجھتا ہوں اس لئے اس کا وہ ریزولیوشن جس کے حوالے سے آپ نے مجھے مخاطب فرمایا ہے میرے لئے واجب التعمیل نہیں ہے۔۲۔ریزولیوشن مذکورہ کی اس لئے میں تعمیل نہیں کر سکتا کہ انجمن کو ترجمہ کے کام میں رکاوٹ ڈالنے یا مخل ہونے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔اس کام کو میں نے اپنے طریق پر اور اپنی اقتضاء و رائے کے مطابق تکمیل کرتا ہے اور جس طرح سے میں پسند کروں اسے ختم کرنا اور طبع کرانا ہے انجمن کو کسی موہوم نقصان و اندیشہ یا کسی دیگر وجہ سے کوئی استحقاق نہیں ہے۔کہ مجھ سے مکمل مسودہ جس کی تحمیل کے لئے تاحال خاصہ عرصہ چاہئے طلب کرے۔نہ ہی انجمن مجھ کو اس بات سے روک سکتی ہے۔کہ میں اپنا تصنیف کردہ مسودہ یا اس کی نقول کو اپنے پاس رکھوں یا جس طرح چاہوں ان سے کام لوں۔۔قطع نظر اس کے جہاں تک میں نے غور کیا ہے قرآن شریف کا انگریزی ترجمہ جو میری تصنیف ہے میری ملکیت ہے۔۔چونکہ ترجمہ ہنوز نا مکمل ہے اس لئے امید کی جاتی ہے کہ آپ واپسی کتب پر اصرار نہ فرمائیں گے۔خاکسار محمد علی ایڈیٹر ریویو آف ریلیج " اس کے بعد جیسا کہ مولوی محمد علی صاحب نے اپنی تحریر میں لکھ دیا تھا ترجمہ کو اپنے طریق اور اپنی اقتضاء و رائے کے مطابق تکمیل تک پہنچایا۔یعنی اپنے نئے مسلک و عقیدہ کے مطابق اس پر نظر ثانی اور ترمیم و تصحیح کر کے جماعت کے مخصوص عقائد۔نبوت مسیح موعود ولادت مسیح وغیرہ کو خارج کر دیا۔اور یہ رد و بدل اتنے وسیع پیمانہ پر کیا گیا کہ پہلے مسودہ کو دوبارہ ٹائپ کرانا پڑا۔چنانچہ اخبار