تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 297
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 289 مدرسہ احمدیہ کے سنگ بنیاد سے تمکین خلافت کے نشان تک تھے وہ کل عیسائیوں کے قلم سے نکلے تھے۔ظاہر ہے یہ مسلمانوں کے نزدیک کسی استناد کے لائق نہ ہو سکتے تھے۔انگریزی میں سب سے پہلا ترجمہ ۱۹۴۹ء میں الیگزنڈر راس نے (ALEXANDER ROSS) اور دوسرا ترجمہ جارج سیل نے (GEORGESALE ۱۷۴۳ء میں کیا جو اس درجہ مقبول ہوا کہ اس کے چھتیں ایڈیشن شائع ہوئے۔آخری ایڈیشن ۱۹۱۳ء میں چھپا اس کے بعد ۱۸۶۱ء میں راڈ ویل نے (REV۔J۔N۔REDWELL۔M۔A) ۱۸۸۰ء میں ایڈورڈ ہنری پامر ,EDWARD HENRY PALMER) نے اور ۱۹۰۵ ء میں محمد عبد الحکیم خاں پٹیالوی نے ترجمہ شائع کیا۔ان حالات میں عالم اسلام کو انگریزی میں ایک نئے ترجمہ قرآن کی ضرورت شدت سے محسوس ہو رہی تھی۔جو قرآن مجید کی صحیح روح اور مزاج کی ترجمانی کرنے والا ہو۔تانہ صرف مغربی دنیا کو اسلام کی حقیقی تعلیم کا پتہ چلے بلکہ نو تعلیم یافتہ مسلمان جو قرآن سمجھنے کے لئے مغربی تراجم کی طرف رجوع کر رہے تھے۔صحیح ترجمہ قرآن سے واقف ہو سکیں۔100 چنانچہ اس اہم ضرورت کی طرف بعض احمدی احباب نے صدر انجمن احمدیہ کو توجہ دلائی۔جس پر صدر انجمن احمد یہ نے یہ کام یکم جون ۱۹۰۹ ء کو مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے ایڈیٹر ریویو آف ریلیچر کے سپرد کیا اور مولوی صاحب کو ادارت کے کام سے فارغ کر کے ان کی بجائے حضرت مولوی شیر علی صاحب کو مقرر کر دیا گیا۔چنانچہ خود مولوی محمد علی صاحب لکھتے ہیں:۔”مولوی صدر الدین صاحب بی اے بی ٹی کے مدرسہ میں آنے پر مولوی شیر علی صاحب بی۔اے میگزین میں آگئے۔مولوی صاحب موصوف پہلے بھی ہیڈ ماسٹری کے زمانہ میں ریویو میں مضامین لکھ کر وقتا فوقتا امداد دیتے رہے تھے۔اب جب ان کا سارا وقت اس کام کے لئے خالی ہو گیا تو ایڈیٹر کو اس سے فراغت مل گئی۔چنانچہ یکم جون ۱۹۰۹ء سے ریویو کے لئے مضمون نویسی کا کل کام مولوی شیر علی صاحب کے سپرد ہو کر ایڈیٹر کے سپرد ترجمه قرآن شریف کا کام کیا گیا۔اور ٹریکٹوں کی طبع کا انتظام بھی ان ہی کے سپرد کیا گیا۔اس طرح قرآن شریف کے انگریزی ترجمہ کا کام صدر انجمن احمدیہ کے اہتمام میں شروع ہو چکا ہے"۔مولوی محمد علی صاحب نے ترجمہ قرآن کے ضمن میں یہ درخواست پیش کی کہ پہلے تراجم اردو و انگریزی اور لغات عربی و انگریزی کا مطالعہ کیا جائے گا۔دو سال میں ترجمہ ہو گا۔قریبا چھ ہزار روپیہ اسی کام پر علاوہ کاغذ وغیرہ کے خرچ اٹھے گا۔ترجمہ کے لئے ایک مکان با ہر ہوا دار بنایا جائے اور ایک دفتر بھی۔چنانچہ صدر انجمن نے ۶ / جون ۱۹۰۹ء کو ان کی اس درخواست کو منظور کر لیا اور ان کی ضروریات پوری کردی گئیں اور پرانی آبادی کے باہر ایک کھلے میدان میں ایک مکان مع دفتر بنوا دیا - 1 ستمبر ۱۹۱۰ء کو ایک ٹائپ را کنرا انجمن نے مہیا کیا۔چنانچہ صدرانجمن احمدیہ کی رپورٹ میں لکھا ہے۔or ۱۵۴