تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 291 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 291

جلد 283 مدرسہ احمدیہ کے سنگ بنیاد سے تمکین خلافت کے نشان تک تربیت کا یہ ایک عجیب پہلو تھا۔ایک دن سکول میں آپ دیر سے تشریف لائے۔لڑکے باہم ہنسی مذاق کرنے لگے۔اسی حالت میں آپ تشریف لے آئے۔آپ نے اس وقت تو کچھ نہ فرمایا۔تیسرے دن اردو سے عربی کرنے کا جب کام دیا۔تو حسب ذیل فقرات اس میں درج تھے :۔ا۔ہنسی مذاق بری چیز نہیں۔۔مگر کھیل کھیل کے وقت کھیلو۔مدرسہ میں جب آؤ۔ایک دوسرے کا ادب کرو۔۴- د حکم دھکا مت ہو۔و کسی کے کندھے پر ہاتھ مت رکھو۔لڑکوں نے عربی میں ترجمہ تو کیا مگر اس کے ساتھ ہی اپنی اصلاح کرلی۔رات کو آپ لڑکوں کو سٹڈی کی حالت میں دیکھنے کے لئے تشریف لاتے۔الغرض مدرسہ احمدیہ آپ کی پوری توجہ سے بڑھتا چلا گیا۔اور سلسلہ میں جس قدر کام کرنے والے علماء آج نظر آتے ہیں وہ آپ کی توجہ اور محنت کا نتیجہ ہیں۔مدرسہ احمدیہ کے نظام تعلیم کو ٹھوس اور مستقل بنیادوں پر قائم کرنے کے لئے آپ نے سب سے اہم قدم یہ اٹھایا کہ اوائل ۱۹۱۲ ء میں اپنے خرچ پر ہندوستان کا ایک لمبا دورہ کیا۔جس میں دیوبند۔سہارنپور۔ندوہ وغیرہ اسلامی مدارس کی تعلیم اور ان کے انتظام کو بغور مطالعہ کیا اور پھر اپنے تجربات کی روشنی میں مدرسہ میں اہم تبدیلیاں کر کے طلباء کے معیار تعلیم کو بلند سے بلند تر کر دیا۔اس کے بعد آخر ۱۹۱۲ء میں عربی مدارس دیکھنے اور حج کرنے کے لئے آپ نے مصرو عرب کا سفر بھی اختیار فرمایا - a ۱۹۱۳ء میں آپ کے مشورہ پر سید ولی اللہ شاہ صاحب اور شیخ عبد الرحمن صاحب مدرس مدرسہ احمدیہ کو مصر میں بغرض تعلیم بھجوایا گیا۔تاوہ عربی تعلیم حاصل کر کے مدرسہ احمدیہ کے لئے مفید وجود بن سکیں۔قبل ازیں مدرسہ احمدیہ کے طلباء کو نہ مولوی فاضل کا امتحان پاس کرنے کی سہولت تھی نہ انٹرنس تک انگریزی پڑھنے کی آسانی۔مگر آپ کی توجہ سے مدرسہ احمدیہ کے فارغ التحصیل طلباء کے لئے ہائی سکول میں انگریزی تعلیم کا انتظام ہوا۔نیز طلباء مدرسین کی مدد سے مولوی فاضل کے امتحان میں شامل ہونے لگے۔علاوہ ازیں مدرسہ کے نصاب کی تکمیل کے لئے ایک دو سالہ طبی کورس بھی رکھا گیا۔آپ اپنے اوقات کا اکثر حصہ مدرسہ کی اصلاح میں خرچ کرتے اور اپنے قوم کے بچوں کے لئے تڑپ تڑپ کر دعائیں کرتے تھے۔آپ نے بورڈنگ کا الگ انتظام کرایا۔پرائمری سے