تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 292 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 292

تاریخ احمدیت جلد ۳ 284 مدرسہ احمدیہ کے سنگ بنیاد سے تمکین خلافت کے نشان تک کم تعلیم رکھنے والے طلبہ کے لئے ( یکم مارچ 1911 ء سے) پیشل کلاس کھلوائی۔آپ طلبہ کی تعلیم میں اس حد تک ذاتی دلچسپی لیتے رہے کہ جب کوئی استاد رخصت پر جاتا تو بعض اوقات خود ہی اس کا مضمون پڑھاتے اور طلبہ میں عربی کا ذوق پیدا کرنے کے لئے عربی کلام فرماتے تھے۔مدرسہ احمدیہ کے لئے آپ کی خدمات کا سلسلہ بہت وسیع ہے۔مختصرا یہ کہ آپ نے اس دینی درسگاہ کو بام عروج تک پہنچانے کے لئے کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہیں کیا۔اور مدرسہ نے آپ کے عہد میں حیرت انگیز ترقی کی۔مارچ ۱۹۱۴ء میں جب آپ مسند خلافت پر متمکن ہوئے تو مدرسہ کا مدرسہ خلافت ثانیہ میں انتظام حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے خوش اسلوبی سے سنبھال لیا۔ازاں بعد شیخ عبد الرحمن صاحب مصری ہیڈ ماسٹر مقرر ہوئے۔1919ء میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے یہ محسوس کر کے کہ جماعت کی عالمگیر تبلیغی ضروریات کو صرف مدرسہ احمدیہ ہی پورا کر سکتا ہے۔آپ نے پہلی جاری شدہ سکیم پر نظر ثانی کے لئے ایک کمیٹی نامزد فرمائی۔جس کے ممبر یہ تھے:۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب مولوی رحیم بخش صاحب ایم۔اے (جن کا نام حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے بعد میں عبدالرحیم صاحب درد تجویز فرمایا حضرت میر محمد اسحق صاحب۔حضرت مولوی محمد دین صاحب حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب۔حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب۔ماسٹر نواب دین صاحب شیخ عبدالرحمن صاحب مصری۔چنانچہ حضور کی زیر نگرانی مدرسہ کے لئے ایک نئی انقلابی سکیم نافذ کی گئی۔اس سکیم کے نتیجہ میں مدرسہ احمد یہ ترقی کرتے کرتے ۲۰ / مئی ۱۹۲۸ء کو عربی کالج کی شکل اختیار کر گیا۔جس نے بڑے بڑے نامور علماء اور مبلغ پیدا کر کے تبلیغ اسلام کی جدوجہد میں شاندار حصہ لیا۔جو رہتی دنیا تک یاد گار رہے گا۔وسط ۱۹۳۷ء میں مدرسہ احمدیہ کا حضرت میر محمد اسحق صاحب کی اصلاحات کا دور ایک جدید دور شروع ہوا جب کہ شیخ عبدالرحمن صاحب مصری کے اخراج جماعت کے بعد حضرت میر محمد اسحق صاحب اس کے ہیڈ ماسٹر ہوئے۔آپ نے مختصر عہد میں مدرسہ میں متعدد اصلاحات کیں۔اس کی خستہ عمارت کو پختہ کرایا۔یتیم اور بے سہارا طلبہ کی تعلیم کے لئے خصوصی انتظامات کئے۔طلبہ میں علمی شعور پیدا کرنے کے لئے علمی مجالس قائم کیں آپ طلبہ میں تبلیغی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لئے اپنے شاگردوں کو قادیان سے