تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 290
ریخ احمد بیت - جلد ۳ 282 مدرسہ احمدیہ کے سنگ بنیاد سے تمکین خلافت کے نشان تک کہ نہ امتحان ہوا اور نہ کلاس بندی ہوئی۔بالکل لاوارثی کی سی حالت تھی اس بے کسی کے زمانہ میں حضرت محمود مدرسہ احمدیہ کے لئے فرشتہ بن کر ظاہر ہوئے مدرسہ احمدیہ کی نظامت آپ کے سپرد ہوئی وہ مدرسہ احمدیہ جس کی ڈوبتی کشتی ایک دفعہ آپ پہلے بچا چکے تھے۔اب آپ نے اسے اپنے مضبوط ہاتھوں میں لے لیا۔آپ کا وجود مدرسہ احمدیہ کے لئے ایک مجسم رحمت تھا۔آپ نے پست خیال طالب علموں کے اندر علو ہمتی پیدا کرنے کے لئے متعدد طریق اختیار فرمائے۔آپ نے حکما طالب علموں کو زمین پر بیٹھ کر پڑھنے سے منع فرمایا۔کیونکہ اس سے پست خیالی پیدا ہوتی ہے۔طالب علموں کو فن خطابت سکھانے کے لئے جلسوں اور لیکچروں کا انتظام فرمایا۔ہر جمعرات کو نصف دن تعلیم ہوتی تھی اور باقی نصف وقت تعلیم خطابت ہوتی تھی۔لڑکوں کے بورڈنگ ہاؤس کی صفائی کا خاص اہتمام ہونے لگا۔ہر ماہ میں ایک دفعہ لازماً آپ بورڈنگ۔دائر ہوں۔کچن اور بیت الخلا کی صفائی ملاحظہ فرماتے۔عربی مدرسوں کے طالب علموں میں ایک قسم کی پستی پیدا ہو جاتی ہے۔اس کو دور کرنے کے لئے آپ خود وقتا فوقتا تقریریں فرماتے اور ان کو ابھارتے۔مدرسہ احمدیہ کے قابل طالب علموں کے لئے کھیلنے کے لئے کوئی الگ فیلڈ نہ تھی۔آپ نے ان کے لئے فیلڈوں کا انتظام کیا۔تاکہ آئندہ بننے والے علماء صرف ملاں ہی نہ ہوں۔بلکہ ہر طرح چاق وچوبند ہوں۔مدرسہ ہائی کے پاس تو ایک قیمتی لائبریری تھی۔جس سے طالب علم فائدہ اٹھاتے تھے۔مگر مدرسہ احمدیہ کے پاس کوئی لائبریری نہ تھی۔آپ نے اس ضرورت کو سخت محسوس کیا اور اپنی لائبریری سے قیمتی کتابوں کا ایک بڑا مجموعہ جس میں الھلال مصر کے پرچے بھی تھے مرحمت فرمایا۔اور مزید روپیہ بھی انجمن سے منظور کروایا۔طالب علم عربی کتابوں کو پڑھتے تھے اور فائدہ اٹھاتے تھے۔آپ نے مدرسہ احمدیہ کی چوتھی جماعت کو اپنے لئے مخصوص کر لیا اور روزانہ تین گھنٹہ اپنا وقت دیتے تھے۔میں بھی اس کلاس کا طالب علم تھا اور اپنے بخت پر فخر کرتا ہوں کہ مجھے بھی آپ سے نسبت تلمذ حاصل ہے۔آپ اپنی کلاس کے طالب علموں کی ہر طرح سے تربیت فرمایا کرتے تھے یہ مدرسہ احمدیہ کا موضوع بہت لمبا ہے۔سر دست اختصار سے اس قدر لکھتا ہوں کہ بعض طالب علم مدرسہ میں کر نہ پہن کر آجاتے تھے۔ایک دفعہ آپ نے ترجمہ میں ایک فقرہ دیا۔۔۔۔۔جو یہ تھا۔۔۔۔۔۔مدرسہ میں بغیر کوٹ پہنے نہیں آنا چاہئے۔اس فقرہ سے سب لڑکے سمجھ گئے کہ آپ کیا چاہتے ہیں سرے دن لڑکے کوٹ پہن کر آگئے۔رو