تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 289
تاریخ احمدیت جلد ۳ -1433 170 281 مدرسہ احمدیہ کے سنگ بنیاد سے تمکین خلافت کے نشان تک کردہ لائبریری یا حضرت خلیفہ اول کی لائبریری کی طرف جانا پڑتا تھا۔ازاں بعد لائبریری کے لئے کتابیں منگوائی جانے لگیں جن کی تعداد ۱۹۱۲ء تک باسٹھ تھی۔پھر مدرسہ کی اپنی عمارت کوئی نہ تھی۔بلکہ تعلیم الاسلام کے ساتھ ہی چلتا تھا۔اور گو بعد میں حضرت خلیفہ اول کی گرانقدر اعانت سے اس کا مستقل بورڈنگ ہاؤس تعمیر ہو گیا۔مگر مدرسہ کے طلباء ابتداء تعلیم الاسلام ہائی سکول کے بورڈنگ ہاؤس میں ہی رہتے تھے۔ان حالات میں اساتذہ اور طلباء کو کما حقہ سکون میسر نہیں تھا اور سب سے بڑی مشکل یہ تھی کہ مولوی صدر الدین صاحب ہیڈ ماسٹر تعلیم الاسلام جن کو مدرسہ کا سپرنٹنڈنٹ مقرر کیا گیا تھا اور جن کی وساطت سے ہی جملہ معاملات انجمن تک پہنچ سکتے تھے۔اپنی مصروفیت کی وجہ سے اس مدرسہ کی طرف پوری توجہ نہیں دیتے تھے یا نہیں دے سکتے تھے۔اس لئے مدرسہ کے انتظام میں بہت کچھ خلل آگیا تھا۔مدرسہ کا انتظام حضرت صاحبزادہ مرزا یہ صورت حال دیکھ کر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کو بہت قلق ہوا۔اور بشیر الدین محمود احمد صاحب کے ہاتھ میں آپ نے ستمبر ۱۹۱۰ء میں انجمن کو توجہ دلائی کہ اس مدرسہ کا انتظام یا تو مدرسہ احمدیہ کے مدرس اول (ہیڈ ماسٹر کی زیر نگرانی ہو یا کسی اور موزوں شخص کو اس کا ناظم مقرر کیا جائے۔اس پر صدر انجمن نے مدرسہ کا پورا انتظام آپ ہی کے سپرد کر دیا اور فیصلہ کیا کہ مدرسین کو انتظامی معاملات میں کوئی دخل نہ ہو گا۔باد جو دیکہ آپ کی دوسری دینی مصروفیات بہت تھیں اور انتظامی امور میں کوئی خاص تجربہ بھی نہ تھا مگر آپ نے محض قومی خدمت کی خاطر اس بار گراں کو اٹھانا منظور کر کے مدرسہ کا انتظام اپنے ہاتھ میں لے لیا۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ستمبر ۱۹۱۰ ء سے مارچ ۱۹۱۴ء تک افسر مدرسہ احمد یہ رہے۔آپ کا دورہ مدرسہ احمدیہ کی تاریخ میں ایک سنہری دور کہلانے کا مستحق ہے آپ سے قبل مدرسہ ناقص حالت میں تھا۔مگر آپ کے آتے ہی اس کی قسمت جاگ اٹھی اور تھوڑے ہی عرصہ میں اس کی کایا پلٹ گئی۔مدرسہ احمدیہ کی ترقی کے لئے زریں خدمات چنانچہ سیخ محمود احمد صاحب عرفانی مدرسہ احمدیہ کے اس سنہری دور کی تفصیل بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:۔"مدرسہ ہائی کے ساتھ جب تک مدرسہ احمد یہ رہا اس کی حالت ایک لاوارث چیز کی سی تھی طالب علموں کے پاس پورے طور پر کمرے بھی نہ تھے۔مدرسوں کے پاس اچھی کرسیاں تک نہ تھی۔بعض کلاسیں زمین پر چٹائیاں بچھا کر گزارہ کرتی تھیں۔ایک دفعہ ایسا بھی ہوا