تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 288
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 280 احمدیہ کے سنگ بنیاد سے تمکین خلافت کے نشان تک جن طلباء کو مولوی فاضل کے امتحان کے لئے تیار کیا جاوے گا۔ان کو ایک سال میں مولوی فاضل کے امتحان کی ایسی کتابیں جو نصاب ہفت سالہ میں شامل نہیں ہیں عبور کرائی جاویں گی -1 ا۔حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب (ہیڈ ماسٹرو اول عہد خلافت اولیٰ کے اساتذہ مدرس دینیات) (۲) حضرت قاضی امیر حسین صاحب (اول) مدرس فقه) (۳) مولوی محمد اسمعیل صاحب (مدرس علم ادب) (۴) حکیم فضل الدین صاحب بھیروی دوم مدرس دینیات) (۵) میاں (پیر) منظور محمد صاحب مدرس متفرق مضامین (1) مولوی محمد جی صاحب (۷) مولوی غلام نبی صاحب (مصری) (۸) پیر مظهر قیوم صاحب (۹) ماسٹر عبد الرحیم صاحب نیر (۱) شیخ عبد الرحمن صاحب (مصری) (1) حکیم محمد الدین صاحب (۱۲) میاں عبد الحق صاحب (۱۳) حضرت میر محمد الحق صاحب (۱۴) مرزا برکت علی صاحب 1 (۱۵) میاں دین محمد صاحب 1 I+A ابتداء جب مدرسہ احمدیہ جاری ہوا تو اس میں شاخ دینیات کے طلباء مدرسہ کے اولین طلبہ اور بعض اور طلباء بھی داخل ہوئے۔جن کی مجموعی تعداد ستائیں تھی اولین طلبہ میں سے بعض کے نام یہ ہیں (مولوی) عبد الرحمن صاحب (جت)۔محمد شریف صاحب۔محمود عالم صاحب۔عبد الغفور صاحب۔غلام فرید صاحب۔بشیر احمد صاحب رحمت علی صاحب۔عبید اللہ صاحب۔خوشی محمد صاحب رحمت اللہ صاحب۔الہ دین صاحب۔سید منظور عالم صاحب۔عبد القدوس صاحب شروع شروع میں چار جماعتیں کھولی گئیں مگر چو تھی جماعت متعدد وجوہات سے قائم نہ رہ سکی۔اگلے سال ۱۹۱۰ ء میں چوتھی جماعت بھی کھل گئی اور طلباء کی تعداد انتالیس تک پہنچ گئی۔پھر 19ء میں اڑسٹھ ہو گئی اور مدرسہ پانچویں جماعت تک بڑھا دیا گیا۔علاوہ ازیں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کی تجویز پر یکم مارچ 1911ء سے ایک سپیشل کلاس کھولی گئی جس میں لڑکوں کو ایک سال تک تعلیم دے کر دوسری کلاسوں کے ساتھ شامل کیا جانے لگا۔۱۹۱۲ ء میں مدرسہ کی چھٹی جماعت اور ۱۹۱۳ ء میں ساتویں جماعت بھی کھل گئی۔اس طرح مدرسہ کی کلاسیں مکمل ہو گئیں۔اور طلبہ فارغ التحصیل ہو کر سلسلہ کی خدمات پر فائز ہونے لگے۔مدرسہ اپنے ابتدائی مراحل کے ایام میں کس درجہ کمزور حالت میں تھا اس کا کسی قدر نقشہ یہ ہے کہ مدرسہ کے اساتذہ و طلبا کی کتابوں کے لئے ابتداء ایک سو پچیس روپے منظور ہوئے۔II جو بعد میں آہستہ آہستہ بڑھا دئے گئے یہ رقم درسی نصاب کے لئے مخصوص تھی اور عام دینی مطالعہ کے لئے طلباء کو حضرت صاحبزادہ صاحب کی قائم