تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 276 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 276

تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 268 فتنہ انکار خلافت کا تفصیلی پس منظر انہوں نے سنا تک نہیں اور خود ہی بولتے گئے اور آخر کچھ دیر بعد اٹھ کر چلے گئے۔اس واقعہ کے بعد مولوی محمد علی صاحب نے حکیم فضل الدین صاحب بھیروی کو صاف صاف کہہ دیا کہ ہم مولوی صاحب کے کتنے پر ایک پیسہ بھی نہیں چھوڑ سکتے۔دوسری طرف احمد یہ بلہ نگس میں جو ابتدا ہی سے خلافت کے خلاف ریشہ دوانیوں کا مرکز بنا ہوا تھا آپ کو معزول کر کے کسی اور کو خلیفہ مقرر کرنے کی تیاریاں شروع ہو گئیں۔جب معاملہ اس درجہ نازک صورت اختیار کر گیا تو حضرت خلیفتہ المسیح اول نے نوٹس دیا۔کہ یہ لوگ عید الفطر (۱۲ / اکتوبر ۱۹۰۹ء تک) اصلاح کرلیں۔اس اعلان پر ان باغیوں نے حضرت خلیفہ اول کے خلاف زہر اگلنا شروع کر دیا۔اور اس سلسلہ میں کئی طویل طویل خط حضرت سید حامد علی شاہ صاحب کو بھی لکھے جن میں سے صرف دو خط نقل کئے جاتے ہیں۔ڈاکٹر مرز الیعقوب بیگ صاحب کا خط حضرت امی المکرم۔السلام علیکم و رحمتہ الله و بركاته۔۔۔قادیان کے مشکلات کا سخت فکر ہے خلیفہ صاحب کا تلون طبع بہت بڑھ گیا ہے اور عنقریب ایک نوٹس شائع کرنے والے ہیں جس سے اندیشہ بہت بڑے ابتلاء کا ہے۔۔۔۔۔اگر اس میں ذرہ بھی تخالف خلیفہ صاحب کی رائے سے ہو تو برافروختہ ہو جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔سب حالات عرض کئے گئے مگر ان کا جوش فرد نہ ہوا۔اور ایک اشتہار جاری رکھنے کا مصمم ارادہ رکھتے ہیں۔۔۔۔آپ فرما دیں ہم اب کیا کر سکتے ہیں ان کا منشاء یہ ہے کہ انجمن کالعدم ہو جائے اور ان کی رائے سے ادنی متخالف نہ ہو۔مگر یہ وصیت کا منشاء نہیں اس میں یہی حکم ہے کہ تم سب میرے بعد مل جل کر کام کرو شیخ صاحب I اور شاہ صاحب بعد سلام مسنون مضمون واحد ہے :۔خاکسار مرزا یعقوب بیگ ۲۹/۹/۰۹ ڈاکٹر سید محمد حسین صاحب کا خط یکم اکتوبر ۱۹۰۹ء بسم الله الرحمن الرحيم -:- نحمدہ و نصلی علی رسوله الكريم الى المكرم جناب شاہ صاحب سلمہ اللہ تعالٰی 1 السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاته - جناب کا لوازش نامہ پہنچا حال معلوم ہوا۔۔۔۔۔قادیان کی نسبت دل کو بٹھادینے والے واقعات جناب کو شیخ صاحب نے لکھے ہوں گے وہ باغ جو حضرت اقدس نے اپنے خون کا پانی دے دے کر کھڑا کیا تھا۔ابھی سنبھلنے ہی نہ پایا تھا کہ باد خزاں اس کو گرایا چاہتی ہے۔حضرت مولوی صاحب کی طبیعت میں ضد اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ دوسرے کی سن ہی نہیں سکتے۔وصیت کو پس پشت ڈال کر خدا کے فرستادہ کے کلام کی بے پرواہی کرتے ہوئے شخصی و جاہت اور حکومت ہی پیش نظر ہے سلسلہ تباہ ہو تو ہو مگر اپنے منہ سے نکلی ہوئی بات نہ ملے پر نہ ملے۔وہ سلسلہ جو کہ حضرت