تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 274 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 274

تاریخ احمدیت جلد ۳ 266 فتنہ انکار خلافت کا تفصیلی پس منظر AL جس کے نتیجہ میں مولوی محمد علی صاحب اور ان کے دو سرے رفقاء اپنی پوری قوت کے ساتھ دوبارہ خلیفہ وقت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور عزل خلافت کے منصوبہ کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے ایک دفعہ پھر شورش برپا کردی حتی کہ خود حضرت خلیفہ اول کو کہنا پڑا کہ میں تو سمجھا تھا کہ فتنہ مر چکا ہے مگر اس نے اب پھر سر اٹھا لیا ہے لہذا دعا کرد کہ خدا تعالی اس کا سر کچل دے۔بات یہ ہوئی کہ حضرت حکیم فضل الدین صاحب بھیروی نے اپنی بھیرہ کی جائداد انجمن کے نام ہیہ کر دی تھی اس جائداد میں ایک حویلی بھی تھی۔انجمن اس حویلی کو فروخت کرنا چاہتی تھی۔بھیرہ کے ایک شیعہ سید زمان شاہ صاحب نے حضرت خلیفتہ المسیح اول کی خدمت میں درخواست دی کہ یہ حویلی حکیم صاحب کو ہم نے ہی اپنے بعض سخت مشکلات کی وجہ سے بہت سستے داموں فروخت کی تھی اس لئے یہ کسی قدر رعایت سے ساڑھے چار ہزار روپیہ میں ہم کو ہی دے دی جائے۔حضرت خلیفتہ المسیح اول نے سید زمان شاہ صاحب کی یہ درخواست منظور فرمالی اور الجمن کو سفارش فرمائی کہ یہ مکان ای رعایتی قیمت سے اس کے پاس فروخت کر دیا جائے۔مولوی محمد علی صاحب نے تین ماہ کی مہلت پر اس سے فیصلہ ٹھرایا اور معاملہ کمیٹی میں پیش ہوا۔حضرت خلیفہ اول کمیٹی میں موجود تھے۔جب اس معالمہ پر بیرونی آراء دیکھی گئیں۔تو ایک شخص کی رائے یہ تھی کہ یہ مکان بارہ ہزار کا ہے۔قوم کا روپیہ اس طرح کیوں غمارت کیا جاتا ہے۔حضرت خلیفہ اول نے فرمایا اس شخص نے نہایت گستاخی سے کام لیا ہے میں نے سفارش کی ہے اور انہوں نے میری بیعت کی ہوئی ہے اگر مکان اس قیمت پر بکتا تھا تو اب تک کیوں نہ بیچ لیا۔اس لئے میں اب اس معاملہ پر رائے نہیں دیتا اور یہ کہہ کر آپ اٹھ کر چلے گئے اور انجمن نے ۵ / اگست ۱۹۰۹ء کو یہ فیصلہ کیا کہ اگر سید زمان شاہ پندرہ یوم کے اندراندر سارا رو پید قیمت حویلی ادا کر کے بیع نامہ رجسٹری کرائے تو بیع کل مکان کی بعوض چار ہزار پانچ سو روپیہ منظور ہے ورنہ A1 حویلی نیلام کی جائے گی اور جو سب سے بڑھ کر بولی ہو اس کے نام بشرط منظوری کمیٹی بیچ کی جاوے۔اس فیصلہ کے بعد سید زمان شاہ ساڑھے تین ہزار روپیہ اور پانچ سو روپیہ کی ایک ہنڈی لائے اور حضرت خلیفہ اول سے عرض کی کہ یہ لے لیا جائے باقی روپیہ میں جلدی لاتا ہوں ابھی مقررہ تاریخ سے کچھ دن باقی تھے کہ حضرت خلیفہ اول نے فرمایا کہ ہنڈی تو شاید وہ لوگ نہ لیں۔تم جا کر رو پیدہ ہی لے آؤ اگر کچھ دن زیادہ بھی ہو گئے تو کچھ حرج نہیں چنانچہ حضرت صاحبزادہ صاحب کی موجودگی میں حضرت خلیفہ اول نے مولوی محمد علی صاحب سے کہا۔کہ میں نے سید زمان شاہ سے یہ بات کہی ہے جس پر مولوی محمد علی صاحب نے کہا کہ جب ساڑھے تین ہزار روپیہ وہ دے گیا ہے۔تو پھر دس پندرہ دن کی مہلت بھی اس کو دے سکتے ہیں المختصر سید زمان اصل معیاد کے بعد آئے پانچ سوروپیہ اور دے کر کہا کہ