تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 273 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 273

تاریخ احمدیت جلد ۳ 265 فتنہ انکار خلافت کا تفصیلی پس منظر تمام نیکیوں اور پاکوں کا فخر اور سب مومنوں کا فخر ہے۔اپنے علم اور عمل اور نیکی اور صدقات میں زمانہ میں یگانہ ہے وہ دین کے خادموں کا سردار ہے۔اللہ تعالٰی اس کے بقاء سے اسلام اور مسلمانوں کی تائید کرے گا جس سے صاف خلافت کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے) وہ ہر امر میں میری اسی طرح پیروی کرتا ہے جس طرح نبض کی حرکت تنفس کی حرکت کی پیروی کرتی ہے اور میری رضا میں وہ فانی ہے اور آخر پر لکھا ہے کہ یہ میں نے اللہ تعالٰی کے فضل اور اس کے ایما اور اس کے القاء سے لکھا ہے "۔حضرت خلیفہ اول کے صریح حکم کی خلاف ورزی حضرت خلیفہ اول نے اپنے فیصلہ کے بعد حکم دیا کہ جو میرے پاس انجمن وخلیفہ سے متعلق تحریرات پہنچی ہیں وہ میں نے سب کی سب جلا دی ہیں اگر تم میں سے کسی کے پاس کوئی تحریر اس کے متعلق ہو تو تم بھی تلف کردو - مولوی محمد علی صاحب نے یہ حکم سنا مگر عمد اخلاف ورزی کی۔اور نہ صرف یہ سوالات و جوابات اپنے پاس محفوظ رکھے بلکہ اپنی کتاب حقیقت اختلاف " میں ان کو شائع بھی کر دیا۔خلیفہ کی بجائے پریذیڈنٹ کے لفظ کا استعمال مولوی محمد علی صاحب کے مقابل خواجہ کمال الدین صاحب موقعه شناس آدمی تھے انہوں نے یہ رنگ اختیار کیا کہ خلافت کے متعلق عام مجالس میں تذکرہ ہی چھوڑ دیا اور چاہا کہ اب یہ معالمہ رہا ہی رہے تا جماعت کے افراد آئندہ ریشہ دوانیوں کا اثر قبول کرنے کے قابل رہیں مگر اس کے ساتھ ہی مجموعی طور پر یہ تدبیر اختیار کی گئی کہ صدرانجمن کے معاملات میں جہاں حضرت خلیفتہ المسیح اول کے کسی حکم کی تعمیل کرنی پڑتی وہاں یہ لکھتے کہ میر مجلس (یعنی پریذیڈنٹ) صاحب نے اس معاملہ میں یوں سفارش کی ہے۔جس سے یہ غرض تھی کہ صدر انجمن احمدیہ کے ریکارڈ سے یہ ثابت نہ ہو کہ خلیفہ کبھی انجمن کا حاکم رہا ہے۔جس پر حضرت خلیفہ اول نے ۲/ دسمبر ۱۹۱۰ء سے اپنی بجائے حضرت سید نا محمود ایدہ اللہ تعالیٰ کو میر مجلس بنا دیا۔چنانچہ اخبار الحکم نے لکھا۔”حضرت خلیفتہ المسیح چونکہ صد را انجمن اور سلسلہ کے مطاع اور امام مفترض الطاعہ تھے نہ کہ میر مجلس اس لئے آئندہ میر مجلس کے عہدہ پر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب حضرت کے قائم مقام مقرر ہوئے۔یہ مخالفت اندر ہی اندر بڑھتی بھیرہ کی حویلی کا واقعہ اور منکرین خلافت کی شورش جارہی تھی۔کہ اگست ۱۹ ۱۹۰۹ء میں حکیم فضل الدین صاحب بھیروی کی انجمن کے نام یہ شدہ حویلی کی فروخت کا واقعہ پیش آگیا۔