تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 272
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 264 فتنہ انکار خلافت کا تفصیلی پس منظر مولوی محمد علی صاحب کو جماعت کا ایک بہت بڑا ستون سمجھتے تھے۔ایک دفعہ حضرت خلیفہ اول یه کے پاس اس قدر گھبرائے ہوئے آئے کہ گویا آسمان ٹوٹ پڑا ہے اور آتے ہی سخت گھبراہٹ کی حالت میں حضرت خلیفہ اول سے کہا کہ بڑی خطرناک بات ہو گئی ہے آپ جلدی کوئی فکر کریں۔حضرت خلیفہ اول نے فرمایا۔کیا بات ہے؟ انہوں نے کہا مولوی محمد علی صاحب کہہ رہے ہیں کہ میری یہاں سخت ہتک ہوئی ہے۔میں اب قادیان میں نہیں رہ سکتا۔آپ جلدی سے کسی طرح ان کو منوالیں ایسانہ ہو کہ وہ قادیان سے چلے جائیں۔حضرت خلیفہ اول الہ نے فرمایا۔ڈاکٹر صاحب میری طرف سے مولوی محمد علی صاحب کو جا کر کہہ دیں کہ اگر انہوں نے کل جاتا ہے تو آج ہی قادیان سے تشریف لے جائیں۔ڈاکٹر صاحب جو سمجھتے تھے کہ مولوی محمد علی صاحب کے جانے سے نہ معلوم کیا ہو جائے گا آسمان مل جائے گایا زمین لرز جائے گی انہوں نے جب یہ جواب سنا تو ان کے ہوش اڑ گئے اور انہوں نے کہا۔میرے نزدیک تو پھر بہت بڑا فتنہ ہو گا۔حضرت خلیفہ اول ا نے فرمایا۔ڈاکٹر صاحب! میں نے جو کچھ کہنا تھا کہہ دیا۔اگر فتنہ ہو گا تو میرے لئے ہو گا۔آپ کیوں گھبراتے ہیں۔آپ انہیں کہہ دیں۔کہ وہ قادیان سے جانا چاہتے ہیں تو کل کی بجائے آج ہی چلے جائیں۔غرض اسی طرح یہ فتنہ بڑھتا چلا گیا۔یہ فتنہ کس پاک شخصیت کے خلاف تھا یہ تمام تر فتنہ اور ہنگامہ آرائی اس مقدس اور خدا انما وجود کے خلاف تھی جس کے بارے میں مولوی محمد علی صاحب کو بظاہر یہ مسلم تھا۔خواہ ہم نے اس کی بیعت بھی نہ کی ہوتی مگر ابھی منشاء نے سلسلہ کی مزید تقویت کے لئے سب دلوں میں حضرت مسیح موعود کی وفات پر یہ ڈال دیا کہ اس پاک اور بے نفس وجود سے جو نور الدین کی شکل میں تم میں موجود ہے وہی روحانی تعلق پیدا کرو اس لئے اس کا انتخاب چالیس نے نہیں کیا بلکہ کل قوم کی گردنیں الہی ارادہ سے اس کے آگے جھک گئیں اور قریب ڈیڑھ ہزار کے آدمیوں نے ایک ہی وقت بیعت کی۔اور ایک بھی منفس باقی نہ رہا۔کیا مرد اور کیا عورتیں۔پس یہ تو میرے نزدیک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا زمانہ ہی گویا بڑھایا گیا ہے۔اور حضرت خلیفتہ المسیح کی یہ تعریف میں نہیں کرتا۔خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کی ہے اور اس کو اس سلسلہ میں وہ امتیاز دیا ہے جو اور کسی کو حاصل نہ تھا۔اور یہ ہے "۔آگے آئینہ کمالات اسلام صفحہ ۵۸۴ سے وہ عبارت دی ہے جو حضرت خلیفتہ المسیح اول کی تعریف میں ہے۔میں نے صرف چند لفظ یہاں نقل کئے ہیں۔ورنہ آٹھ صفحے حضرت خلیفتہ المسیح کی تعریف سے بھرے ہوئے ہیں جو تمام اسی مضمون کے ہیں کہ وہ نبوت کے نور سے روشن ہے۔اور نبی میں اللہ کے نور سے نور حاصل کرتا ہے وہ :