تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 270 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 270

تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 262 فتنہ انکار خلافت کا تفصیلی پس منظر حضرت خلیفہ اول کی جلالی تقریر بہر حال حضرت خلیفہ اول و تقریر کے لئے کھڑے ہوئے اور آپ نے فرمایا۔" تم نے اپنے عمل سے مجھے اتنا دکھ دیا ہے کہ میں اس حصہ مسجد میں بھی کھڑا نہیں ہوا جو تم لوگوں کا بنایا ہوا ہے بلکہ میں اپنے میرزا کی مسجد میں کھڑا ہوا ہوں۔نیز فرمایا۔میرا فیصلہ ہے کہ قوم اور انجمن دونوں کا خلیفہ مطاع ہے اور یہ دونوں خادم ہیں انجمن مشیر ہے اس کا رکھنا خلیفہ کے لئے ضروری ہے "۔اسی طرح فرمایا۔جس نے یہ لکھا ہے کہ خلیفہ کا کام بیعت لیتا ہے اصل حاکم انجمن ہے وہ تو بہ کرے خدا نے مجھے خبر دی ہے کہ اگر اس جماعت میں سے کوئی تجھے چھوڑ کر مرتد ہو جائے گا تو میں اس کے بدلے تجھے ایک جماعت دوں گا۔لوگوں نے حضرت خلیفہ اول ﷺ کے جب یہ خیالات معلوم کئے تو گو جماعت کے بہت سے لوگ ان کے ہم خیال بن کر آئے ہوئے تھے مگر ان پر اپنی غلطی واضح ہو گئی اور انہوں نے رونا شروع کر دیا۔چنانچہ جو لوگ اس جلسہ کے حالات کو اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں وہ جانتے ہیں کہ وہ مجلس اس وقت ایسی معلوم ہوتی تھی۔جیسے شیعوں کے مرضیہ کی مجالس ہوتی ہیں اس وقت لوگ اپنے کرب اور اتنے درد سے رو ر ہے تھے کہ یوں معلوم ہو تا تھا کہ مسجد ماتم کدہ بنی ہوئی ہے اور بعض تو زمین پر لیٹ کر تڑپنے لگ گئے۔پھر آپ نے فرمایا۔کہا جاتا ہے کہ خلیفہ کا کام صرف نماز پڑھانا یا جنازہ یا نکاح پڑھا دینا اور یا پھر بیعت لے لینا ہے۔یہ کام تو ایک ملا بھی کر سکتا ہے۔اس لئے کسی خلیفہ کی ضرورت نہیں۔اور میں اس قسم کی بیعت پر تھوکتا بھی نہیں۔بیعت رہی ہے جس میں کامل اطاعت کی جائے اور جس میں خلیفہ کے کسی ایک حکم سے بھی انحراف نہ کیا جائے۔آپ کی اس تقریر کا نتیجہ یہ نکلا کہ لوگوں کے دل صاف ہو گئے اور ان پر واضح ہو گیا کہ خلیفہ کی کیا اہمیت ہے۔دوبارہ بیعت کا ارشاد تقریر کے بعد آپ نے خواجہ صاحب اور مولوی محمد علی صاحب کو کہا کہ وہ دوبارہ بیعت کریں۔اسی طرح آپ نے فرمایا۔میں ان لوگوں کے طریق کو بھی پسند نہیں کرتا جنہوں نے خلافت کے قیام کی تائید میں جلسہ کیا ہے اور فرمایا جب ہم نے لوگوں کو جمع کیا تھا تو ان کا کوئی حق نہ تھا کہ وہ الگ جلسہ کرتے ہم نے ان کو اس کام پر مقرر نہیں کیا تھا۔اور پھر جبکہ خدا تعالٰی نے مجھے یہ طاقت دی ہے کہ میں اس فتنہ کو مٹاسکوں تو انہوں نے یہ کام خود بخود کیوں کیا۔چنانچہ شیخ یعقوب علی صاحب تراب سے بھی جو اس جلسہ کے بانی تھے۔۔آپ نے فرمایا۔کہ آپ دوبارہ بیعت کریں۔چنانچہ خواجہ کمال الدین صاحب مولوی محمد علی صاحب اور شیخ یعقوب علی صاحب سے دوبارہ بیعت لی گئی۔حضرت سید نا محمود نے اس وقت یہ سمجھ کر کہ یہ عام بیعت ہے اپنا ہاتھ بھی بیعت کے لئے بڑھا دیا مگر حضرت خلیفہ اول نے آپ کے ہاتھ کو پرے کر دیا اور فرمایا یہ