تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 269
تاریخ احمدیت۔جلد ۰۳ 261 فتنہ انکار خلافت کا تفصیلی پس منتظر الغرض حضرت خلیفتہ المسیح اول چھت پر تشریف لائے۔آپ کے لئے مسجد کے وسط میں ایک جگہ تیار کی گئی تھی۔مگر آپ نے وہاں کھڑے ہونے سے بالکل انکار کر دیا۔اور شرقی جانب اس حصہ مسجد میں کھڑے ہو گئے جسے حضرت مسیح موعود نے خود تعمیر کروایا تھا۔اس موقعہ پر قریباً اڑھائی سو کا مجمع تھا۔جس میں اکثریت احمد یہ جماعتوں کے نمائندوں کی تھی۔اس جلسہ کا نظارہ حضرت سید نا محمود ایدہ اللہ تعالٰی بذریعہ ردیا پہلے ہی دیکھ چکے تھے اور دراصل یہی رویا سنانے کے لئے آپ صبح کے وقت حضرت خلیفہ اول کے پاس گئے تھے چنانچہ آپ فرماتے ہیں:۔" میں نے رویا میں دیکھا کہ مسجد میں جلسہ ہو رہا ہے اور حضرت خلیفہ اول و تقریر فرمار ہے ہیں مگر آپ اس حصہ مسجد میں کھڑے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بنوایا تھا۔اس حصہ مسجد میں کھڑے نہیں ہوئے جو بعد میں جماعت کے چندہ سے بنوایا گیا تھا۔آپ تقریر مسئلہ خلافت پر فرما رہے تھے اور میں آپ کے دائیں طرف بیٹھا ہوں۔آپ کی تقریر کے دوران میں خواب میں ہی مجھے رقت آگئی اور بعد میں کھڑے ہو کر میں نے بھی تقریر کی۔جس کا خلاصہ قریباً اس رنگ کا تھا کہ آپ پر لوگوں نے اعتراض کر کے آپ کو سخت رکھ دیا ہے مگر آپ یقین رکھیں کہ ہم نے آپ کی بچے دل سے بیعت کی ہوئی ہے اور ہم آپ کے ہمیشہ وفادار رہیں گے پھر خواب میں ہی مجھے انصار کا واقعہ یاد آگیا۔جب ان میں سے ایک انصاری نے کھڑے ہو کر کہا تھا کہ یا رسول اللہ ہم آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی لڑیں گے اور دشمن آپ تک نہیں پہنچ سکے گا جب تک وہ ہماری لاشوں کو روندتا ہوا نہ آوے اسی رنگ میں میں بھی کہتا ہوں کہ ہم آپ کے وفادار ہیں اور لوگ خواہ کتنی بھی مخالفت کریں ہم آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے اور آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی لڑیں گے۔اور دشمن آپ کے پاس اس وقت تک نہیں پہنچ سکے گا۔جب تک وہ ہم پر حملہ کر کے پہلے ہمیں ہلاک نہ کرلے قریباً اسی قسم کا مضمون تھا جو ر دیا میں میں نے اپنی تقریر میں بیان کیا مگر عجیب بات یہ ہے کہ جب حضرت خلیفہ اول و تقریر کرنے کے لئے مسجد میں تشریف لائے تو اس وقت میرے ذہن میں سے یہ رد یا بالکل نکل گیا اور بجائے دائیں طرف بیٹھنے کے بائیں طرف بیٹھ گیا۔حضرت خلیفہ اول اے نے جب مجھے اپنے بائیں طرف بیٹھے دیکھا تو فرمایا۔میرے دائیں طرف آبیٹھو۔پھر خود ہی فرمانے لگے تمہیں معلوم ہے کہ میں نے تمہیں دائیں طرف کیوں بٹھایا ہے۔میں نے کہا مجھے تو معلوم نہیں۔آپ نے فرمایا تمہیں اپنی خواب یاد نہیں رہی۔تم نے خودہی خواب میں اپنے آپ کو میرے دائیں طرف دیکھا تھا"۔