تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 268 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 268

تاریخ احمدیت جلد ۳ 260 فتنہ انکار خلافت کا تفصیلی پس منظر چینیں نکل جاتی تھیں۔آپ نے اس آیت کو دوہرایا۔اور پھر تیسری بار پڑھا وہ سماں آج بھی یاد آکر دل پگھلا دیتا اور رنج گلو گیر بن جاتا ہے۔مسجد آہ و نالہ اور فغاں سے گویا ماتم کدہ بن رہی تھی۔لوگ بلبلا کر سکیاں لیتے اور دعائیں کرتے تھے۔سجدہ گاہیں آنکھ کے پانی سے تر اور روتے روتے لوگوں کی گھگھیاں بندھ گئی تھیں۔یہ نماز اپنی کیفیت کے لحاظ سے خاص ہی نماز تھی جو کہ شاذ ہی کبھی اللہ کے فضل سے میسر آیا کرتی ہے۔نماز سے ایسا محسوس ہو تا تھا کہ اب کسی دل میں خلافت کے خلاف کوئی منصو بہ باقی نہیں رہ سکتا مگر جو نہی حضرت خلیفہ اول نماز کے بعد گھر تشریف لے گئے تو بعض عمائد انجمن نے یہ لیکچر شروع کر دیا کہ اب مولوی صاحب کوئی اور تقریر نہیں فرمائیں گے۔جس کی نسبت آپ نے آج کا وعدہ اور اعلان فرمایا ہو ا تھا۔اس تقریر کے قائم مقام یہی آیتیں ہیں جو آپ نے نماز میں پڑھی ہیں اور ان کو پڑھ کر آپ نے ہم کو یہ وعظ فرمایا ہے کہ مومنوں کا اس امر پر اتفاق تھا کہ انجمن حضرت مسیح موعود کی جانشین ہے اور سب جماعت اور خلیفہ کچھ حاکم ہے۔مگر بعض شریروں نے اس کے خلاف بات چھیڑ کر مومنوں میں تفرقہ اور فتنہ ڈال دیا۔پس مولوی صاحب نے جو وعظ کرنا تھا وہ کر دیا ہے اب اور کوئی تقریر نہ ہو گی۔تم کو چاہئے کہ اسی بات پر جم جاؤ اور کسی شریر کے کہنے پر نہ جاؤ۔مگر نماز کے اندر اللہ تعالٰی کی طرف سے مومنوں کو شرح صدر عطا ہو چکا تھا۔اس لئے اکثر لوگوں نے اس پراپیگنڈا کو سخت نفرت و حیرت سے دیکھا اور ان پر ان کا جادو کچھ اثر نہ کر سکا۔اسی دوران میں حضرت خلیفتہ المسیح اول کی طرف سے مسجد مبارک کی چھت پر جمع ہونے کا حکم ملائین اس وقت ڈاکٹر مرزا یعقوب صاحب حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب (خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے پاس آئے اور کہا آپ مولوی صاحب سے جا کر کہیں کہ اب فتنہ کا کوئی خطرہ نہیں رہا۔کیونکہ سب لوگوں کو بتا دیا گیا ہے کہ انجمن ہی حضرت مسیح موعود کی جانشین ہے آپ تو یہ بات سن کر خاموش ہو گئے مگر وہ خود حضرت خلیفہ اول کی خدمت میں پہنچ گئے اور جاتے ہی عرض کیا۔مبارک ہو سب لوگوں کو سمجھا دیا گیا ہے کہ انجمن ہی جانشین ہے۔یہ سن کر آپ نے فرمایا کون سی انجمن ؟ جس انجمن کو تم جانشین قرار دیتے ہو وہ تو خود بموجب قواعد کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔یہ جواب سن کر خواجہ صاحب اور ان کے رفقاء کو پہلی دفعہ یہ احساس ہوا کہ معاملہ ویسا آسان نہیں جیسا کہ ہم سمجھتے ہیں وگرنه قبل ازیں وہ عموما یہی سمجھتے تھے کہ انہی کی رائے کے مطابق فیصلہ دیا جائے گا۔چنانچہ ان میں سے بعض جو حضرت خلیفہ اول کی نیکی کے قائل تھے عام طور پر لکھتے تھے کہ خدا کا شکر ہے کہ ایسے بے نفس آدمی کے وقت میں یہ سوال پیدا ہوا ہے ورنہ اگر ان کے بعد ہو تا تو نہ معلوم کیا فساد کھڑا ہو تا۔