تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 267 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 267

تاریخ احمدیت جلد ۳ 259 فتنہ انکار خلافت کا تفصیلی پس منظر اس قدر دردمندانہ دعائیں کی گئیں کہ میں یقین کرتا ہوں کہ فرش عظیم ان سے مل گیا ہو گا سوائے گریہ و بکا کے اور کچھ سنائی نہ دیتا تھا۔اور خدا کے سوا کوئی ناخد انظر نہ آتا تھا"۔آخر فجر کی اذان ہوئی لوگ سنتیں ادا کر کے حضرت خلیفہ اول کی انتظار میں بیٹھے تھے کہ خواجہ صاحب اور ان کے ساتھیوں نے لوگوں کو خلافت کے مقابل انجمن کی بالا دستی اور حاکمیت کا سبق پڑھانا شروع کیا حضرت سید نا محمود ایدہ اللہ بنصرہ العزیز اس وقت بیت الفکر کے متصل دالان میں نماز کے انتظار میں ٹہل رہے تھے کہ آپ کو مسجد سے لوگوں کی اونچی اونچی آواز میں آنی شروع ہو گئیں۔جیسے کسی بات پر وہ جھگڑ رہے ہوں۔اسی دوران میں آپ کے کان میں شیخ رحمت اللہ صاحب کی یہ بلند آواز آئی کہ ہم کسی بچہ کی بیعت کس طرح کر لیں۔ایک بچہ کے لئے جماعت میں فتنہ پیدا کیا جارہا ہے اور لوگ چاہتے ہیں کہ اسے خلیفہ بنا کر جماعت کو تباہ کر دیں۔آپ یہ سن کر سخت حیران ہوئے کہ یہ بچے کا ذکر کیا شروع ہو گیا ہے۔اور وہ کون سا بچہ ہے جسے لوگ خلیفہ بنانا چاہتے ہیں؟ اس کے متعلق بعد میں آپ کو حضرت خلیفہ اول ہی سے معلوم ہوا کہ بچہ سے ان کی کیا مراد ہے اور وہ اس طرح کہ اس روز صبح کی نماز کے بعد آپ بعض باتیں لکھ کر حضرت کے پاس گئے اور دوران گفتگو میں شیخ صاحب کا بھی ذکر کیا کہ وہ یہ کہہ رہے تھے نہ معلوم یہ بچہ کون ہے حضرت خلیفہ اول آپ کی بات سن کر مسکرائے اور فرمایا تمہیں معلوم نہیں وہ بچہ کون ہے وہ تمھی تو ہو۔المختصر کچھ دیر انتظار کے بعد حضرت خلیفہ اول نماز پڑھانے کے لئے مسجد مبارک میں تشریف لے آئے بعض روایات سے پتہ چلتا ہے کہ صبح کی نماز سے قبل آپ کو الہاما سورہ بروج کے پڑھنے کا حکم دیا گیا اور بتایا گیا کہ اس کے پڑھنے سے اکثر لوگوں کے دل نرم ہو جائیں گے۔چنانچہ اس کے مطابق آپ نے اس سورۃ کی تلاوت فرمائی اور اگرچہ شروع سے لے کر آخر تک ساری ہی نماز سوز و گداز عجز و نیاز گریہ و بکا اور تضرع و خشوع خضوع کا دردناک نمونہ تھی مگر جب آپ اس آیت پر پہنچے کہ ان الذين فتنوا المومنين والمومنت ثم لم يتوبوا فلهم عذاب جهنم ولهم عذاب 5 الحريق - تو مسجد گو یا ماتم کدہ میں بدل گئی۔خود حضرت خلیفہ اول کی آواز بھی شدت گریہ سے رک گئی۔اس کے بعد آپ نے دوبارہ جو یہ آیت دوہرائی تو تمام جماعت رقت سے نیم بسل سی ہو گئی۔اور چند سنگدل لوگوں کے سوا سب کے دل کثافتوں سے دھل گئے اور ان میں خشیت اور تقوی اللہ کا نور چھا گیا۔یہ ایک آسمانی نشان تھا۔جو خلافت کی تائید غیبی کے لئے ظاہر ہوا۔حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی کا بیان ہے کہ " جب آپ آیت قرآنی ان الذین فتنوا المومنین الخ پر پہنچے تو آپ کی آواز بھی نہ صرف یہ کہ درد و کرب سے بھرائی ہوئی نکلتی تھی بلکہ