تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 262
تاریخ احمدیت ، جلد ۳ 254 فتنہ انکار خلافت کا تفصیلی پس منظر خلیفہ وقت کی عظمت کو گرانا چاہا دوسرے جلسہ سالانہ ۱۹۰۸ء پر انجمن کی خلافت و حاکمیت پر زور دے کر جماعت کی عقیدتوں کا رخ خلافت سے موڑ کر انجمن کی طرف پھیرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔حضرت میر محمد اسحق صاحب کی طرف فتنہ انکار خلافت کے پس منظر پر تفصیلی روشنی سے وضاحت طلب سوال ڈالنے کے بعد اب ہم یہ بتاتے ہیں کہ حضرت خلیفتہ المسیح اول کو اس کا علم کیسے ہوا۔جلسہ سالانہ ۱۹۰۸ء پر انجمن کے ممبروں کی جو تقریریں ہوئیں۔ان سے جماعت میں اندر ہی اندر چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں اور خلافت اور انجمن کے بارے میں جماعت دو کیمپوں میں تقسیم ہو گئی۔ایک کیمپ خلیفہ کو حاکم سمجھتا تھا اور دوسرا انجمن کو مگر نہ حضرت خلیفتہ المسیح اول کو نہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کو اس صورت حال کا کچھ علم تھا۔یہ فتنہ اندر ہی اندر سلگ رہا تھا کہ حضرت میر محمد اسحاق صاحب نے اس کی ابھرتی ہوئی چنگاریوں کو محسوس کر کے حضرت خلیفتہ المسیح اول کی خدمت میں بعض سوالات بھیجے۔جو حضرت خلیفتہ المسیح اول نے مولوی محمد علی صاحب کی طرف بھیجوا دئے ڈاکٹر بشارت احمد صاحب اس واقعہ کا ذکر ان الفاظ میں کرتے ہیں۔افسوس ہے کہ مولوی صاحب نے اپنی سادگی سے ان سوالات کو آگے چلا دیا۔یعنی انجمن کے ممبروں کے سامنے پیش کر دیا"۔موادی محمد علی صاحب کے خیالات کا بے نقاب ہونا یہ سوالات کیا تھے ؟ اور ان کے جوابات مولوی محمد علی صاحب نے کیا دے ؟ ان کی تفصیل خود مولوی محمد علی صاحب نے اپنی کتاب " حقیقت اختلاف " میں درج کی ہے۔ہم بطور نمونہ چند ضروری سوالات اور ان کے جوابات کا ذکر کرتے ہیں۔(سوال) صدر انجمن کے تعلقات اس زمانہ میں اور آئندہ زمانہ میں خلافت کے منصب والے (یعنی خلیفہ) کے ساتھ کیسے ہیں اور کیسے ہوں گے۔یعنی آپس میں کیا فرق ہے اور ہو گا؟ (جواب) اس وقت خلافت کے منصب پر بیٹھنے والا صد را انجمن احمدیہ کا صدر ہے یعنی جس شخص کو حضرت صاحب نے مجلس معتمدین صدر انجمن احمدیہ کا میر مجلس منتخب فرمایا تھا اسی کو ساری قوم نے اتفاق کے ساتھ خلیفہ منتخب کیا ہے پس وہ اور صد را انجمن احمد یہ ایک ہی چیز ہیں۔آئندہ جیسا خلیفہ ہو گا ویسے ہی اس کے ساتھ تعلقات ہوں گے۔علم غیب کوئی نہیں جانتا لیکن حضرت صاحب کی وصیت سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ خلیفہ کا کوئی فرد واحد ہونا ضروری ہے۔گو خاص صورتوں میں ایسا ہو جیسا کہ اب ہے بلکہ حضرت صاحب نے انجمن کو اپنا خلیفہ بنایا ہے اور یہ ضروری نہیں کہ خلیفہ ایک ہی