تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 258 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 258

تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 250 فتنہ انکار خلافت کا تفصیلی پس منظر آپ ایک تو صدر انجمن احمد یہ بنائیں۔جس کا ہر نمبر ایک احمدی ہو۔اور پھر ایک انجمن معتمدین بنا ئیں جو ہننزلہ سب احمدیوں یا بلفظ دیگر صد را مجمن کے قائم مقام اور نائب اور معتمد علیہا ہو۔اور پھر کہا کہ یہ تو بنی بنائی ہی ہے۔کیونکہ جو انجمن مقبرہ بہشتی کی حضرت صاحب نے بنائی ہے۔اس کا نام آپ معتمدین رکھ لیں۔تو ساتھ ہی یہ فائدہ ہو جائے گا کہ لوگ ان معتمدین کو حضرت صاحب کی یقین کریں گے۔اور پھر آپ کے احکام سے کوئی چون و چرا نہ کر سکے گا چنانچہ یہ تو اسی وقت ہو گیا اور اس حجرہ کے اندر ہو گیا۔حالانکہ جمہوریت کی بنا ہی انتخاب پر ہے مگر ابھی دو خطرے باقی تھے۔اول یہ کہ اس وقت تو ہم خود ہی اس معتمدین کے بلا انتخاب قوم ممبر بن گئے ہیں۔مگر ہو سکتا ہے کہ کل قوم اپنے حق انتخاب کا دعوی کرے اور پھر ہماری جگہ اور ممبر انتخاب کرلے اور یہ سب کچھ ہاتھ سے نکل جاوے۔تو اس خطرہ کے رفع کرنے کے لئے یہ کیا کہ موجودہ ممبر جو ہیں یہ لائف ممبر ہیں (گو جمہوریت میں کبھی ابتدا سے اب تک نہ ہوا ہو۔اور دوسرا خطرہ یہ تھا کہ آئندہ اس انجمن ہی کو کوئی تو ڑ دے تو پھر لائف ممبری بھی کچھ کام نہیں دے گی۔تو اس کے دفعیہ کے لئے بہت کچھ وقت اور دماغ صرف کیا گیا۔مگر بجز اس کے اور کچھ ہاتھ نہ آیا کہ اس کو رجسٹرڈ کرایا جائے۔ان ہی دنوں میں یہ بھی ہو گیا۔ممبران انجمن کے تقرر کا واقعہ صدر انجمن احمدیہ کے قیام کے بعد تقرر ممبران وغیرہ کے سلسلہ میں بھی خواجہ صاحب اور ان کے رفقاء نے من مانی کی اور حضرت کے ارشاد کو پس پشت ڈال دیا۔چنانچہ سید نا محمود حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی فرماتے ہیں۔ایک دن حضرت صاحب اندر آئے تو والدہ صاحبہ سے کہا کہ انہیں (یعنی مجھے ) انجمن کا ممبر بنا دیا ہے۔نیز ڈاکٹر محمد اسمعیل صاحب کو اور مولوی صاحب کو ناکہ اور لوگ کوئی نقصان نہ پہنچا دیں۔پھر میاں بشیر احمد صاحب کا نام لیا گیا آپ نے فرمایا دہ مدرسہ میں پڑھتے ہیں افسران کے ماتحت ہوں گے اس لئے ان کو رہنے دو۔پھر آپ آئے اور کہا یہ نام تجویز کئے ہیں۔ڈاکٹر محمد حسین صاحب کا نام یقینی یاد ہے۔مرزا یعقوب بیگ صاحب کا یقینی یاد نہیں کہ حضرت صاحب نے تجویز کیا یا نہیں۔آپ کو کہا گیا م انام لکھ لئے ہیں۔حضرت نے فرمایا اور چاہیں باہر کے آدمی بھی ہوں۔اور کے نام بھی بیان کئے جن میں سے ذوالفقار علی خان صاحب۔چوہدری رستم علی خان صاحب۔ڈاکٹر محمد اسمعیل صاحب کے نام اس وقت مجھے یاد ہیں اس پر کہا گیا کہ زیادہ آدمیوں سے کو رم نہیں پورا ہو گا۔آپ نے فرمایا اچھا تھوڑے سہی۔پھر کہا اچھا ایک اور تجویز کرتا ہوں۔اور وہ یہ کہ مولوی صاحب کی رائے چالیس آدمیوں کی رائے کے برابر ہو۔(یہ امیر نہیں تو اور کیا ہیں ۱۴ ممبر ایک طرف ایک کی رائے چالیس کے برابر ہو۔)